تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 502 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 502

۵۰۲ عیال موجود نہیں جو مشبہ یہ ہو سکے اس لئے انسان کی عیال مشبہ یہ ہے اور مراد اس جگہ عیال اللہ میں تشبیہ سے یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنے عیال کا نگران اور مرغی ہوتا ہے اور ان سے شفقت کا سلوک کرتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ اپنی مخلوق کا مربی اور عمران ہے اور ان کے لئے باپ کی طرح شفیق۔پس محد يم العام أنتَ مِنِّي بمنزلة ولدى كا مفقود نہیں۔فتدبر۔نہیں۔فتدبّر۔سوال سوم 66, ج: - برق صاحب اس کے بعد الهام با مریم اسكن پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مریم مونث ہے اس کے لئے اُسکنی چاہیئے تھا۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۳۲۵) الجواب الہام میں مریم کا لفظ مذکر کے لئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے اس لئے اسکن مذکر کا استعمال ہی ضروری تھا سورہ تحریم میں اعلیٰ درجہ کے مومنوں کو حضرت مریم صدیقہ سے ہی تشبیہ دی گئی ہے۔جیسا کہ فرمایا "وَضَرَبَ اللهُ مثلاً لِلَّذِينَ آمَنُوا۔ومريم بنت عمران - کہ خدا نے مومنوں کی مثال عمران کی بیٹی مریم سے دی ہے۔اس الہام میں اُسکن مذکر کے استعمال کے متعلق خود حضرت سیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- " عبارت کا سیاق دیکھنے سے معلوم ہو گا کہ مریم سے ام عیسی مراد نہیں اور نہ آدم سے آدم اب البشر یہی عاجز مراد ہے۔اب اس جگہ مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد نہیں۔بلکہ مذکر مراد ہے۔تو قاعدہ یہی ہے کہ اس کے لئے صیغہ مذکر ہی لایا جائے یعنی یا مریم اسکن کہا جائے نہ کہ یا مریم اسکنی۔ہاں اگر مریم کے لفظ سے کوئی مونث مراد ہوتی تو پھر اس جگہ اسکنی آتا۔لیکن اس جگہ تو صریح مریم