تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 501 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 501

۵۰۱ جائے تو اس کی مثال مولانا روم کا اولیاء اللہ کو استعارہ کے طور پر اطفال الله " قرار - دیتا ہے۔وہ فرماتے ہیں :۔اولیاء اطفال حق انداے پسر “ (مثنوی مولانا روم) یعنی اے فرزند اولیاء خدا کے بیٹے ہیں ( مستعار طور پر نہ کہ حقیقی طور پر ) حضرت اقدس کے ایک دوسرے الهام أنتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ أَوْلادِ ی میں اولادی کا لفظ مجازی معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔واضح ہو کہ مجاز میں اس جگہ تشبیہ کا علاقہ سے اور اس جگہ خدا کا کوئی حقیقی بیٹا موجود نہیں جو مشبہ بہ ہو۔حالانکہ اطفال اللہ کا مشبہ بہ ضرور کوئی ہے۔یہ مشبہ بہ انسان کے اطفال ہیں۔جن کے ساتھ اولیاء اللہ کو اطفال حق کہہ کر تشبیہ دی گئی ہے۔اور مراد اس تشبیہ سے یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنے اطفال سے محبت رکھتا ہے اور ان کی تربیت اور حفاظت کرتا ہے۔اسی طرح خدا اولیاء اللہ سے محبت رکھتا ہے اور ان کی خاص تربیت اور نگرانی کرتا ہے پس اگر الہام أَنْتَ مِنَى بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی میں اضافت مجاز قرار دی جائے تو ولدی سے مراد مجازی ولد ہو گا۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام جنہیں مجازی طور پر یہ محاور وبائبل انجیل میں خدا کا فرزند قرار دیا گیا ہے۔(برق صاحب انا جیل میں اپنی کتاب "دو اسلام " کے مطابق کسی تحریف کے قائل نہیں) اور الہام کے معنی یہ ہوں گے کہ تو میری طرف سے میرے مجازی فرزند حضرت عیسی علیہ السلام کے مرتبہ پر ہے۔یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کا مثیل ہو کر امت محمدیہ کا مسیح موعود ہے۔یاد رہے کہ دونوں صورتوں کی اضافت میں مشبہ بہ کے لئے خدا کا حقیقی فرزند ہونا ضروری نہیں جس سے ولدی کا استعارہ کیا گیا ہو بلکہ مشبہ بہ دونوں صورتوں میں انسان کا حقیقی ہینا ہے۔یہی حال اس حدیث کا ہے جس میں الخلق عيالُ اللہ کے الفاظ وارد ہیں۔(مشكوة باب الشفقة والرحمة على الخلق) اس حدیث میں مخلوق کو استعارہ کے طور پر عیال اللہ کہا گیا ہے۔اور چونکہ خدا کی کوئی حقیقی