تحقیقِ عارفانہ — Page 497
۴۹۷ کلام یعنی قرآن شریف عربی زبان میں ہی نازل ہونا چاہیے تھا۔کیونکہ یہ زبان دوسری زبانوں کی نسبت سے اپنے مفردات میں پاک اور کامل علوم عالیہ کا ذخیرہ رکھتی ہے۔اس عبارت کا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ خدا دوسری زبانوں میں کلام نہیں کرتا۔یہ بات تو ایک معمولی پڑھا لکھا مسلمان بھی جانتا ہے کہ انجیل ، توراۃ ، زیور اور دیگر صحف انبیاء عربی میں نازل نہیں ہوتے تھے۔خدا جس طرح پہلے زمانوں میں عربی کے علاوہ انبیاء سے دوسری زبانوں میں کلام کرتا رہا ہے اور اب بھی دوسری زبانوں میں کلام کرتا ہے۔اس کے متعلق کسی مجبوری کا لفظ تو کسی مسلمان کی زبان پر نہیں آنا چاہیئے۔البتہ مصلحت کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے آخر عربی زبان کے علاوہ کسی مصلحت کے ماتحت خدا تعالیٰ نے دوسری زبانوں میں حضرت مرزا صاحب پر الہامات نازل کئے ہیں۔نیک نیتی سے غور کرنے پر اس کی مصلحت آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔واضح ہو کہ ہمارے زمانہ میں بعض ایسی قومیں موجود ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ الہام لفظ نازل نہیں ہو تا بلکہ خدا کی طرف سے علم کے دل میں ایک خیال ڈالا جاتا ہے۔جسے وہ اپنی زبان میں بیان کر دیتا ہے۔عیسائی اور پر ہمو سماجی اسی قسم کے الہام کے قائل ہیں۔اور مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہو رہے تھے۔چنانچہ سرسید مرحوم کا بھی ایسا ہی خیال تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب پر بعض ایسی زبانوں میں بھی الہامات نازل کئے جنہیں آپ خود بھی نہیں جانتے تھے۔تا ثابت ہو کہ خدا تعالیٰ کا الہام الفاظ میں بھی نازل ہو تا رہا ہے۔اور قرآن شریف کا الہام اسی نوعیت کا ہے۔ایسا نہیں کہ خدا تعالیٰ کا مطلب آنحضرت ﷺ نے اپنے الفاظ میں بیان کر دیا ہو۔پھر مختلف زبانوں میں الہام اس لئے بھی ہوا کہ خدا تعالی یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ ہر قوم اس سے تعلق پیدا کر کے اپنی زبان میں اس کے لذیذ کلام کو سن سکتی ہے۔یہ تو ٹھیک ہے کہ عربی زبان دوسری زبانوں کی نسبت زیادہ لطیف ہے اور دوسری زبانیں اسکی نسبت زیادہ کثیف ہیں۔لیکن ہر شخص اپنی