تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 469 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 469

۴۶۹ کر رحم کرنے والا ہے۔تو اس پر اُس عورت نے کہا کہ کوئی ماں تو اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالتی۔یعنی پھر خدا تعالیٰ لوگوں کو جہنم میں کیسے ڈال سکتا ہے ؟ اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔خدا صرف متمرد ( سرکش اور باغی ) کو ہی عذاب دیگا۔یہی جواب ہم برق صاحب کو دیتے ہیں کہ حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ نے بھی صرف معمر دین کے پیش نظر بد دعا کی تھی۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں :- فَلَمَّا طَغَا الفِسْقُ المُبيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْكَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبِّرُ کہ جب ملک فسق کا سیلاب چڑھ آیا یعنی لوگوں کی سرکشی اور شرار تھیں اور ایذارسانی اور دشنام وہی انتہا کو پہنچ گئی تو اس وقت میں نے یہ تمنا کی کہ کاش تباہ کر دینے والی وباء آجائے۔پس جب خدا تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہے وہ بھی کسی وقت مخلوق کی سرکشی اور تمرید کے بڑھ جانے پر غضب میں آکر دنیا میں وبائیں اور زلازل و غیرہ تباہیاں برپا کر دیتا ہے تو اس کا مامور اگر ایسے ہی وقت غضب میں آ کر بد دعا کر دے تو کیا جائے تعجب ! آخر نبی کی خواہش کا توافق اسوقت خدا کے ارادہ سے ہی ہو گا۔اصل بات یہ ہے کہ نبی کی بد دعا بھی ایک قسم کا القا ہی ہوتا ہے۔جب خدا کا غضب دنیا پر بھڑ کنے والا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنے کسی زور آور حملہ سے دنیا کو اپنی طاقت منواکر لوگوں کو ضلالت سے حق کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے تو اسوقت اسکے ارادہ کے ساتھ نبی کا ارادہ بھی مل جاتا ہے جو اس کی طرف سے بد دعا کے رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔۵ - الهام عمر جناب ، ق صاحب العام عمر کے زیر عنوان لکھتے ہیں۔جناب مرزا صاحب نے الہام عمر کو اپنی تصانیف میں سو مرتبہ سے زیادہ