تحقیقِ عارفانہ — Page 455
۴۵۵ اس الہام کی رو سے جارف قسم کی طاعون نہیں آسکتی تھی۔نہ یہ کہ قادیان میں طاعون کی کوئی واردات ہی نہیں ہو سکتی تھی۔دوسرے شہروں اور دیہات کے مقابلہ میں جن میں سرکش اور شریر دشمن رہتے تھے قادیان کے نسبتاً محفوظ رہنے کی پیشگوئی تھی۔جس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔اس سلسلہ میں آخری حوالہ جناب برق صاحب نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۴ نیز صفحہ ۲۵۳ کا یہ پیش کیا ہے۔ہو گیا۔“ ” طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون کا زور تھا میر الڑکا بیمار یہ حوالہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۴ میں موجود ہے اور صفحہ ۲۵۳ میں یہ الفاظ موجود نہیں اور برق صاحب نے صفحہ ۸۴ کا حوالہ بھی ادھورا پیش کیا ہے تا یہ سمجھا جائے کہ حضرت اقدس کا لڑکا طاعون سے بیمار ہو گیا حالانکہ وہاں یہ لکھا ہے۔” پھر طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد ہمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑ کا بالکل بے ہوش ہو گیا اور بے ہوشی سے دونوں ہاتھ مارتا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اگر چہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا ان دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہو گیا تو تمام و شمن اس آپ کو طاعون شھر ا ئینگے اور خدا تعالیٰ کی اس پاک وحی کی تکذیب کریں گے جو اس نے فرمایا ہے اِنِّی أَحَافِظ كُلَّ مَنْ فِي الدار یعنی میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہے طاعون سے چاؤں گا۔اس خیال سے میرے دل میں وہ صدمہ وارد ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہو گئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اور ہی بلا ہے۔تب میں کیا بیان کروں کہ میرے دل کی کیا حالت تھی کہ خدانخواستہ اگر لڑکا فوت ہو گیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کے لئے بہت کچھ سامان ہاتھ آئے گا اس حالت میں میں نے