تحقیقِ عارفانہ — Page 454
۴۵۴ مفید مطلب بن سکتا تھا لیکن اگلا حصہ ترک کر دیا ہے جو ان کے اعتراض کو بیخ و بن سے اکھاڑتا تھا۔پس ان کا یہ اعتراض محض معاندانہ ہے نہ کہ محققانہ۔ایک اور اعتراض جناب برق صاحب کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ قادیان طاعون سے محفوظ نہیں رہا۔اس سلسلہ میں انہوں نے چار حوالے پیش کئے ہیں۔اول اخبار البدر قادیان ۱۹ دسمبر ۱۹۰۲ء کا یہ حوالہ۔ہے لیکن آجکل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔اس لئے اگر چہ قادیان میں نسبتا آرام (حرف محرمانه صفحه ۲۹۶) اس کے بعد ”لیکن“ سے آگے کی عبارت چھوڑ کر اس کی جگہ نقطے ڈال کر برق صاحب لکھتے ہیں۔" نسبتا سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان محفوظ نہیں تھا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۹۶) پھر دوسر ا حواله البدر ۲۴/ اپریل ۱۹۰۲ء اور البدر ۱۶/ مئی ۱۹۰۳ء سے درج کیا ہے حالانکہ ۲۴ / اپریل ۱۹۰۲ء تک ابھی البدر جاری بھی نہیں ہوا تھا اور ۱۶ مئی ۱۹۰۳ء کو البدر کا کوئی پرچہ شائع نہیں ہوا۔اب ان ہر دو حوالوں کے متعلق ان کے نہ ملنے کی ذمہ داری برق صاحب پر عائد ہوتی ہے مگر ان عبارتوں میں بھی ایک عبادت میں تو قادیان میں طاعون کی چند وارداتیں ہونے کا ذکر ہے اور دوسری عبارت میں یہ ذکر ہے کہ قادیان میں طاعون حضرت مسیح موعود کے الہام کے مطابق اپنا کام کر رہی تھی۔گویا یہ بیان کیا گیا ہے کہ قادیان کے دشمنوں کو بھی کچھ چاشنی چکھائی گئی ہے۔اور یہ عبارت در اصل اگر کسی اور جگہ موجود ہو تو بھی مشاء الہام کے خلاف نہیں۔کیونکہ اوپر العام إِنَّهُ آوَى القرية کی تشریح میں ہم بتا آئے ہیں کہ قادیان میں