تحقیقِ عارفانہ — Page 453
۴۵۳ حضرت مرزا صاحب نے طاعون کے دفع ہونے کا علاج صرف میں بتایا تھا کہ لوگ آپ پر ایمان لے آئیں۔چنانچہ ادھورے حوالے پیش کرنے کے بعد وہ آخر میں احمدیوں کی تعداد کو بھی زیر بحث لائے ہیں اور کتاب مردم شماری برائے سال ۱۹۱۰ ء ، صفحہ ۱۶۹ کو پیش کر کے بتایا ہے۔کہ طاعون کے بعد 1911 ء میں احمدیوں کی تعداد صرف اٹھارہ ہزار چھ سو پچانوے تھی۔اور کل پنجاب کی آبادی ایک کروڑ پچانوے لاکھ اناسی ہزار چالیس اور پھر لکھا ہے۔طاعون کے بعد پھر صرف پنجاب میں مسیح موعود کے منکر ایک کروڑ پچانوے لاکھ ساٹھ ہزار باقی تھے اور طاعون ختم ہو گیا حالانکہ خدا نے صریحاً فرمایا تھا۔" یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔“ ( دافع البلاء صفحہ ۹) اب قارئین کرام غور فرمائیں کہ جناب برق صاحب نے اس اعتراض میں کیسا نامناسب طریق اختیار کیا ہے کہ حضرت صاحب کے کلام کو آپ کی کتاب ”دافع البلاء “ سے ادھورے طور پر پیش کرنے کے بعد مردم شماری سے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ الہام کے مطابق لوگوں کو احمدی ہو جانا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔لہذا الہام جھوٹا نکلا۔وہ عبارت جسے آپ الہام قرار دیتے ہیں یہ ہے۔" یہ طاعون اس حالت میں فرو ہو گی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کر لیں گے۔(حوالہ دافع البلاء صفحہ ۵) (حرف محرمانه صفحه ۳۰۷) ہم اوپر وافع البلاء کی صفحہ ۹ ، اور صفحہ ۱۰، کی عبارت درج کر چکے ہیں جو جناب برق صاحب کے پیش کردہ فقرہ سے آگے یوں چلتی ہے۔اور کم سے کم یہ کہ ( دافع البلاء صفحہ ۹) شرارت اور ایذاء اور بد زبانی سے باز آجائیں گے۔“ اپنے اعتراض کو قومی کرنے کے لئے اور اپنے تئیں اعتراض میں سچا ثابت کرنے کے لئے جناب برق صاحب نے عبارت کا پہلا حصہ تو پیش کیا ہے جو ان کے