تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 35 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 35

۳۵ کبھی اس کے مجازی معنی نقش حاصل کے لحاظ سے کسی شئی کا دوسری ٹی کے اثر سے تحصیل اثر ہوتے ہیں اور کبھی اس کے مجازی معنی آخر کو پہنچنا ہوتے ہیں انہی معنوں میں ختَمتُ القُرآن کہا جاتا ہے کہ میں تلاوت میں اس کے خاتمہ کو پہنچ گیا۔امام راغب علیہ الرحمۃ کے اس بیان سے ظاہر ہے کہ ختم اور طبع ہم معنی مصدر ہیں اور ان کے مصدری یعنی لغوی اور حقیقی معنی تاثیر الشی ہیں۔اس لحاظ سے خاتم بفتح تا کے معنی تاثیر کا ذریعہ ہوں گے۔اور خاتم بحر تا کے معنی مؤثر وجود یا صاحب تاثیر کے ہوں گے۔کیونکہ عائم آلہ ہے اور خاتم اسم فاعل۔پس بعالم یا خاتم کے حقیقی معنوں میں ایجاد کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ختم اور طبع مصدروں کے حقیقی لغوی معنی بیان کرنے کے بعد امام راغب علیہ الرحمۃ نے ختم کے تین مجازی معنی لکھے ہیں۔اوّل بند ش۔دوم کسی شے سے اثر حاصل کرنا۔سوم آخر کو پہنچنا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں آنحضرت علیہ کو حقیقی لغوی معنوں میں خاتم النبین کہا گیا ہے یا مجازی معنوں میں جو بندش اور آخری کے ہیں۔صاف ظاہر ہے کسی لفظ کے معنی کرتے ہوئے لفظ کا پہلا حق یہ ہوتا ہے کہ دیکھا جائے کہ جس مقام پر یہ لفظ استعمال ہوا ہو اس جگہ اس کے حقیقی معنی چسپاں ہو سکتے ہیں یا مجازی معنی۔اگر حقیقی معنی اس جگہ محال نہ ہوں تو حقیقی معنی ہی لینے ضروری ہوں گے۔ہاں اگر حقیقی معنی میں اس لفظ کا استعمال اس جگہ محال ہو تو پھر اس کے مجازی معنی مراد ہوں گے۔خاتم النبین کے الفاظ آیت کریمہ میں جس سیاق میں وارد ہیں اس میں اس مرکب اضافی سے آنحضرت ﷺ کی ابوتِ معنوی ثابت کرنا مقصود ہے۔پس سیاق آیت خاتم کے حقیقی لغوی معنوں کا موید ہے نہ کہ ہندش یا آخری کے مجازی معنوں کا مويد محض بندش اور مطلق آخری کے معنوں کا ابوت معنوی کے مفہوم سے کوئی تعلق نہیں لہذا یہ مجازی معنی آیت کریمہ میں مراد نہیں ہو سکتے۔ہاں انبیاء میں سے