تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 434 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 434

۴۳۴ میں نوبرس کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔“ اشتهار ۸/ اپریل ۱۸۸۶ء) اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء مندرجہ ضمیمه اخبار ریاض ہند یکم مارچ ۱۸۸۶ میں صاف طور پر یہ پیشگوئی بھی درج کی گئی تھی۔” میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا۔مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔" ضمیمه اخبار ریاض ہند امر تسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء اشتهار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) پس ۸ر اپریل ۱۸۸۶ء کے مصداق لڑکے کا کم عمری میں فوت ہو جانا آپ کی ایک پیشگوئی کو پورا کرتا ہے۔نہ کہ قابل اعتراض ہے۔ہاں اگر آپ نے اس لڑ کے بشیر احمد کو الہام الہی سے مصلح موعود قرار دیا ہو تا تو پھر البتہ اس کی وفات قابل اعتراض ہوتی۔مگر حضرت اقدس نے تو اس کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے ہی صفائی سے بتا دیا تھا کہ :- >> یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جواب پیدا ہو گا یہ وہی ( مصلح موعود۔ناقل ) لڑکا ہے یادہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔“ باقی رہا مخالفین کا لڑکی پیدا ہونے پر اعتراض یا بشیر احمد کی وفات پر اعتراض یا لوگوں کا شبہات میں مبتلا ہونا۔سو یہ پیشگوئی کی اصل حقیقت سے ناواقفیت کا ہی نتیجہ ہو سکتا ہے۔نہ علم و بصیرت کا نتیجہ۔برق صاحب کا چوتھا اعتراض جناب برق صاحب کہتے ہیں :- پیشگوئی سے پورے سوا تیر و برس کے بعد ۱۴؍ اگست ۱۸۹۹ء کو آپ کے "