تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 417 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 417

۴۱۷ میں رجوع کیا اور کہا کہ معاذ اللہ میں نے آنجناب کی شان میں ایسا لفظ کوئی نہیں کہا اور دونوں ہاتھ اٹھائے اور زبان منہ سے نکالی اور لرزتی ہوئی زبان سے انکار کیا۔جس کے نہ صرف مسلمان گواہ بلکہ چالیس سے زیادہ عیسائی بھی گواہ ہوں گے۔پس کیا یہ رجوع نہ " (اعجاز احمدی صفحه ۳،۲) اس پر جناب برق صاحب لکھتے ہیں۔یہ جواب بوجوہ محل نظر ہے۔اعتراض اوّل اگر آتھم نے واقعی اس جلسہ ہی میں (جہاں پیشگوئی سنائی گئی تھی ) رجوع کر لیا تھا تو پھر آپ پندرہ ماہ تک اضطراب میں کیوں رہے تھے ؟ جب رجوع ہو گیا تو پیشگوئی و ہیں ختم ہو گئی۔" الجواب (حرف محرمانه صفحه ۲۸۰) واقعات سے کیسی ثابت ہے۔اور پیشگوئی کا ٹل جانا بھی اس بات پر گولہ ہے کہ آتھم صاحب نے در حقیقت رجوع کر لیا تھا۔لیکن اس وقت قطعی طور پر یہ خیال نہیں کیا جاسکتا تھا کہ دل سے وہ عقیدہ تثلیث سے بھی رجوع کر رہے ہیں۔اس لئے حضرت اقدس کا پیشگوئی کی پندرہ ماہ کی میعاد تک پیشگوئی کے انجام کا انتظار اور اس میں دلچسپی لینا ضروری امر تھا۔گوبناء پیشگوئی مسٹر عبد اللہ آتھم کا آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ و جال قرار دینا تھی۔لیکن چونکہ پیشگوئی میں خدا تعالیٰ کے الفاظ یہ تھے :- کہ اس بحث میں جو فریق عمد ا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا نا رہا ہے۔وہ پندرہ ماہ تک ہادیہ میں گر لیا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔پھر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ (جنگ مقدس صفحه ۱۸۸) اور پیشگوئی کا ما حصل خود جناب برق صاحب نے بھی یہی لکھا ہے کہ :-