تحقیقِ عارفانہ — Page 405
۴۰۵ يحسرةً عَلَى العِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ کہ لوگوں پر افسوس ہے کوئی بھی رسول ان کے پاس نہیں آتا مگر وہ اس سے استہزاء کرتے ہیں اور استہزاء کا مقصد تذلیل ہی ہو تا ہے۔پس مامورین کے خلاف طوفان بد تمیزی تو ان کی سیدھی باتوں کو الٹا بنا کر بھی بر پا کر دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس طوفان بد تمیزی کا جو انجام ہوا اس کا جناب برق صاحب نے ذکر نہیں فرمایا۔اور غالبا اس وجہ سے ذکر نہیں کیا۔کہ اگر وہ اس بارہ میں بعد کے واقعات بھی بیان کر دیتے تو پھر اُن کا اعتراض بے جان ہو کر رہ جاتا اور وہ اپنے اعتراض کو خود کمترور کرنا نہیں چاہتے تھے۔انجام پیشگوئی اس انجام کی اصل حقیقت یہ ہے کہ جب میعاد پیشگوئی گزر گئی اور ڈیٹی عبد اللہ آتھم رجوع الی الحق کر لینے کی وجہ سے وعیدی موت سے بچ گئے تو جو طوفان بد تمیزی اس موقعہ پر برپا کیا گیا وہ خدا تعالی کی طرف سے ایک ابتلاء کا رنگ رکھتا تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے اس ابتلاء کا پر وہ یوں چاک کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الهام کیا کہ آپ عبداللہ آظم کو دعوت مباہلہ دیں۔یہ دعوتِ مباہلہ آپ نے اپنے اشتہار انعامی ایک ہزار روپیہ میں شائع فرمائی اور یہ لکھا کہ :- اگر عیسائی صاحبان اب بھی جھگڑمیں اور اپنی مکارانہ کارروائیوں کو کوئی چیز سمجھیں یا کوئی اور شخص اس میں شک کرے تو اس بات کے تصفیہ کے لئے کہ فتح کس کو ہوئی آیا اہل اسلام کو جیسا کہ در حقیقت ہے یا عیسائیوں کو جیسا کہ وہ ظلم کی راہ سے خیال کرتے ہیں تو میں اُن کی پردہ دری کے لئے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔اگر دروغ گوئی اور چالاکی سے باز نہ آئیں تو مباہلہ اس طور پر ہو گا کہ ایک تاریخ مقرر ہو کر فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کھڑے ہو کر تین مرتبہ ان الفاظ