تحقیقِ عارفانہ — Page 403
۴۰۳ کا پیشگوئی کے الفاظ ہادیہ میں گر لیا جائے گا“ کے رو سے پند روماہ کے اندر واقع ہونا سمجھا جاتا تھا۔پھر طیکہ وہ حق کی طرف رجوع نہ کرے کیونکہ عذاب پیشگوئی کے مطابق عدم رجوع پر ہی واقع ہو سکتا تھا چونکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے یہ پیشگوئی سننے کے بعد فوراً رجوع کے آثار ظاہر کئے اور پھر وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں اس پیشگوئی سے خائف تھے اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل ہوتے رہے اور انتہائی گھبراہٹ کا اظہار کرتے رہے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر روتے رہے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس ہم تو غم پر اطلاع پا کر جو مسٹر عبد اللہ آتھم کے رجوع الی اللہ کا ثبوت تھاو عیدی موت کا عذاب ان سے ٹالد یا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے الہام سے اطلاع دے دی کہ عبد اللہ آتھم کو مہلت دے دی گئی ہے۔چنانچہ آپ نے یہ الہام انوار الاسلام کے صفحہ ۳ پر یوں درج فرمایا ہے :- اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى هَمِّهِ وَغَمِهِ۔اور اس کا یہ ترجمہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے ہم تو غم پر اطلاع پائی اور اس کو مہلت دی۔(حاشیہ انجام آتھم صفحہ ۲۲) پس الہام الہی نے مسٹر عبد اللہ آتھم کے اندرونہ کی خود اطلاع دے دی ہے کہ اس نے اس حد تک رجوع کر لیا تھا کہ وہ و عیدی موت سے بچ جاتا اور اسے مہلت دی جاتی۔الہام ہذا سے استدلال پر ایک اعتراض جناب برق صاحب اس الہام سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا استدلال پر اعتراض کرتے ہیں۔کہ :- انور الاسلام ۲۷ اکتوبر ۱۸۹۴ء کی تصنیف ہے اور پیشگوئی کی میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تک تھی۔ایک ماہ ۲۲ دن گذر جانے کے بعد مہلت دینے کا مطلب؟ مزه تو تب تھا کہ میعاد سے پہلے الہام مہلت نازل ہوتا۔تاکہ ہر ستمبر والے