تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 402 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 402

۴۰۲ دامن نہیں چھوڑا۔مگر ایک بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ رجوع الی الحق کا تعلق قلب سے ہوتا ہے نہ ضروری طور پر اعلان حق سے۔لہذا اگر ڈپٹی عبداللہ آتھم دل سے تثلیث کے قائل نہ رہیں اور خدا کا ایک ہو نا مان لیں تو عذاب ان سے مل سکتا تھا۔رجوع الی الحق کا لفظ اس سے عام ہے کہ رجوع قلبی ہو یا اس کا اعلانیہ اظہار بھی ہو۔پس اعلانیہ اظہار رجوع و عیدی موت سے چنے کے لئے ضروری نہیں۔سنت اللہ یوں واقع ہوئی ہے کہ عذاب الہی اونی رجوع سے بھی مل جاتا ہے۔چنانچہ آل فرعون پر جب عذاب کا سلسلہ شروع ہوا تو فرعون اور اس کے سرداروں نے کہا :- يأَيُّهَا السَّحِرادُعُ لَنَارَبَّكَ بِمَاعَهِدَ عِنْدَكَ إِنَّنَا لَمُهْتَدُونَ فَلَمَّا كَشَفْنَا (زخرف : ۵۱,۵۰) عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِذَاهُمْ يَنكُتُونَ یعنی انہوں نے کہا اے جادو گر ! اپنے رب کے سامنے ہمارے حق میں ان تمام وعدوں کا واسطہ دے کر دُعا کر جو (وعدے) اس نے مجھ سے کئے نہیں (اگر عذاب مل گیا) تو ہم ضرور ہدایت پا جائیں گے۔پھر جب ہم نے ان سے عذاب ٹال دیا تو وہ فورا عہد شکنی کرنے لگے۔“ دیکھئے اس آیت سے ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں کے موسی کو باوجود جادو گر کہنے کے صرف اتنا ہی رجوع کر لینے پر بھی کہ دعا کریں کہ عذاب ٹل جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔خدا تعالیٰ یہ جاننے کے باوجود کہ یہ بد عمدی کریں گے۔اُن سے اس اونی رجوع پر بھی عذاب ٹال دیتا رہا۔اس سے ظاہر ہے کہ عذاب ادنیٰ رجوع سے بھی مل جاتا ہے۔لہذا اگر واقعات یا قرائن سے یہ ثابت ہو جائے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے در حقیقت تثلیث کا عقیدہ چھوڑ دیا تھا۔اور اس کے چھوڑ دینے کے متعلق اس کا کوئی اعلان نہ بھی ہو تو بھی وعیدی موت کا عذاب اس سے مل سکتا تھا جس