تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 401 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 401

۴۰۱ نہیں۔بلکہ اجتہادی ہے۔برق صاحب اصل الہام جنگ مقدس سے خود حرف محرمانہ کے صفحہ ۲۶۹ پر درج کر آئے ہیں جہاں حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ نے لکھا ہے :- اس نے (خدا نے مجھے یہ نشان بھارت کے طور پر دیا ہے کہ :- اس بحث میں جو فریق عمدا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے۔اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بحر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ (جنگ مقدس صفحه ۱۸۸) اس الہامی اقتباس سے ظاہر ہے کہ اس میں موت کا لفظ موجود نہیں اور الهامی عبارت اس بارہ میں یہی ہے نہ کوئی اور البتہ حضرت اقدس نے ہادیہ میں گرایا جاوے گا“ کے الفاظ سے موت کا استنباط کیا ہے۔پس موت کا استنباط اجتہادی ہے نہ کہ الہامی۔لہذا اجتہاد ہی کی بناء پر آپ نے کرامات الصادقین میں اس پہلے الہام کے لفظ ہلو یہ سے اس کی موت کا استنباط فرمالیا ہے۔اس جگہ بشر نی رتی کے الفاظ میں کسی جدید الہام کا ذکر نہیں ہے بلکہ پہلے الہام ہی کا جو مفہوم حضرت اقدس سمجھے تھے دو بیان فرما رہے ہیں۔آگے برق صاحب لکھتے ہیں :- باقی رہا لفظ "حق" تو پیشگوئی کے یہ الفاظ پھر پڑھئے۔" جو فریق محمد ا جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خداہنا رہا ہے یعنی جھوٹ سے مراد عاجز انسان کو خدا مٹانا ہے اور بیچ کیا ہے ؟ ایک خدا کو ماننا۔اس پیشگوئی کی رُو سے رجوع الی الحق کا مفہوم ایک ہی ہو سکتا ہے یعنی تثلیث سے تائب ہو کر توحید قبول کرنا۔(حرف محرمانه صفحه ۲۷۱) ہمیں جناب برق صاحب کے اس نتیجہ سے اتفاق ہے ورنہ بعض معترضین تو اس کا مفہوم مسلمان ہونا قرار دیتے ہیں۔اس جگہ جناب برق صاحب نے انصاف کا