تحقیقِ عارفانہ — Page 393
۳۹۳ کے پورا کرنے کے لئے کوشش پر معترض ہیں ؟ کیا انہیں علم نہیں کہ اسلام کے متعلق پیشگوئیوں میں غلبہ کا جو وعدہ تھا اسے پورا کرنے کیلئے مسلمانوں کو تن، من، دھن کی بازی لگانی پڑی تھی۔لکھتے ہیں :- مولوی شبیر احمد صاحب عثمانی یہودیوں کے جواب والی آیت کی تفسیر پر نوٹ گویا اس کا مطلب یہ تھا کہ مقابلہ کی ہمت ہم میں نہیں۔ہاں بد وں ہا تھ ہلائے پکی پکائی کھالیں گے۔آپ معجزہ کے زور سے انہیں نکال دیں۔( قرآن کریم مترجم مولانا محمود الحسن صاحب دیو بدی صفحہ ۷ کے حاشیہ نمبر ۱۰) اس کے بعد تحریر فرماتے ہیں :- اسباب مشروعہ کا ترک کرنا تو کل نہیں۔تو کل تو یہ ہے کہ کسی نیک مقصد کے لئے انتہائی کوشش اور جہاد کرے پھر اس کے مثمر اور منتج ہونے کے لئے خدا پر بھروسہ رکھے اور اپنی کوشش پر نازاں اور مغرور نہ ہو۔باقی اسباب مشروعہ کو چھوڑ کر خالی امیدیں باندھتے رہنا تو کل نہیں بلکہ تعطل ہے (حوالہ ایضاً صفحہ ۷۷ زیر عنوان فوائد ہذا قا ئدہ نمبر ۲) پس اگر حضرت مرزا صاحب نے کسی کو انعام و احسان کا و عده دیا یا کسی کو اس معاملہ میں مدد کے لئے کیا اور مخالفت کی صورت میں قطع تعلق کا ڈر اوا دیا تو اس میں کو نسا فعل شرعا یا اخلاق نا جائز ہے ؟ اگر خدا کا ڈر لو اور دھمکی دینا جائز ہے تو مامور جو اس کا مظہر ہوتا ہے۔اس کے لئے کیوں ڈراوا دینا جائز نہیں۔تمام وعیدات جو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں ڈراوے اور دھمکی کا ہی رنگ رکھتی ہیں کہ اگر باز آجاؤ گے تو فبہاور نہ تمہیں سزادی جاوے گی۔پس دھمکی جب سنت اللہ کے خلاف نہیں تو مامور کی دھمکی اور اس پر عمل کیونکر قابل اعتراض قرار دیئے جاسکتے ہیں۔