تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 388 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 388

۳۸۸ تکذیب کے نئے جرم سے ہی اب و عیدی موت کا شکار ہو سکتے تھے۔جس کی میعاد ان کی طرف سے تکذیب کرنے پر ہی خدا تعالی کی طرف سے مقرر ہو سکتی تھی اس لئے کہ حضرت اقدس انجام آتھم صفحہ ۳۲ کے طریق فیصلہ کے مطابق ان کی وعیدی موت کا شکار ہونے کے لئے صرف تکذیب کی شرط کو ہی ضروری سمجھتے تھے نہ ان کے بیعت کر لینے کو۔اسی لئے آپ نے مخالفین کو مرزا سلطان محمد صاحب سے تکذیب کا اشتہار دلانے کا چیلنج کیا۔چونکہ حضرت اقدس کی زندگی میں ان کی طرف سے تکذیب پیشگوئی کا ارتکاب نہیں ہوا۔اس لئے وہ و عیدی موت سے بچے رہے اور نکاح کی پیشگوئی جو ان کی موت سے معلق تھی ٹل گئی۔اعتراض خشم جناب برق صاحب کا چھٹا اعتراض یہ ہے کہ : ”نکاح آسمان پر پڑھا جا چکا تھا تو تاخیر میں کیسے پڑ گیا۔اگر فتح ہو گیا تھا تو اللہ کا فرض تھا کہ اپنے رسول کو مطلع کرتا۔ورنہ وہ متر ددانہ انداز میں یہ نہ کہتے۔صبح ہو گیا " ہے یا تاخیر میں پڑ گیا ہے صرف ایک صورت کا ذکر کرتے۔(حرف محرمانه صفحه ۲۶۸) حضرت اقدس کے الفاظ نکاح آسمان پر پڑھا گیا۔دراصل الهام زوجن کھا کا یہ مفہوم ظاہر کرنے کے لئے کئے گئے تھے کہ آسمان پر یہ نکاح اس وعیدی پیشگوئی کا ایک حصہ قرار پا چکا ہے۔چنانچہ انجام آتھم صفحہ ۶۰ پر اس الہام کا ترجمہ حضرت اقدس نے یہ کیا ہے کہ :- کہ بعد واپسی کے ہم نے اس سے تیر انکاح کر دیا گویا یہ الہام نکاح کو اس وعیدی پیشگوئی میں مشروط طور پر ایک مقدر امر قرار دیتا تھا۔یہ تقدیر واپسی کی شرط سے مشروط تھی۔اور یہ واپسی بیوہ ہونے یعنی مرزا