تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 383 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 383

٣٨٣ الجواب اس کے جواب میں عرض ہے کہ جناب برق صاحب کا یہ سارا اعتراض ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ الہام أَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُونِي تُولی کہ اے عورت تو بہ کر توبہ کر میں عورت" سے مراد محمدی بیگم صاحبہ ہیں۔اس لئے وہ اعتراضاً لکھ رہے ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی ایسی دفعہ موجود نہیں کہ بیوی گنا ہوں سے تائب ہو جائے تو وہ شوہر پر حرام ہو جاتی ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اس الہام مين أيتها المرء : سے جو عورت مراد ہے وہ محمدی بیگم صاحبہ نہیں بلکہ ان کی بانی صاحبہ مراد ہیں۔اپنی کتاب کا نام تو جناب برقی صاحب نے " حرف محرمانہ " رکھا ہے۔مگر وہ اس بات سے بالکل نا محرم ہیں کہ اس الہام میں عورت سے مراد محمدی بیگم صاحبہ نہیں۔پس انہوں نے از خود عورت سے محمدی بیگم صاحبہ مراد لے کر اپنے اعتراض کی عمارت کھڑی کی ہے۔لہذا ان کی کتاب حرف محرمانہ نہیں بلکہ اصل حقیقت کو جاننے سے محروم ہونے کی وجہ سے حرف محرمانہ یا حرف محرومانہ کہلانے کی مستحق ہے۔افسوس ہے کہ انہوں نے بلا تحقیق اس الہام کے الفاظ ابنها المراة میں المرأة (عورت) سے محمدی بیگم صاحبہ مراد لے لی ہے۔جناب برق صاحب! آپ ذرا تتمہ اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء نکال کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ وہاں اس الہام کو محمدی بیگم صاحبہ کی نانی صاحبہ سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔اشتہار ہذا میں حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں۔کہ آپ نے کشف میں محمدی بیگم صاحبہ کی نانی کو دیکھا کہ اس کے چہرے پر رونے کے آثار