تحقیقِ عارفانہ — Page 381
۳۸۱ پیشنگوئی و عیدی تھی۔وعیدی پیشگوئیوں کا وقوع اصولاً تو بہ نہ وقوع میں آنے کی شرط سے مشروط ہوتا ہے۔اور اگر توبہ وقوع میں آجائے تو شخص مذکور کے تو بہ پر قائم رہنے کی صورت میں وعیدی پیشگوئی مل جاتی ہے۔ورنہ تاخیر میں پڑ جاتی ہے۔یعنی جب وہ تو بہ کو توڑتا ہے تو پھر پکڑا جاتا ہے۔دوسرا اعتراض جناب برق صاحب نے دوسرا اعتراض شرط موجود فرض کر کے یوں کیا ہے نتیجہ نکاح فسخ یا مؤخر ہو گیا تھا تو پھر ۱۸۹۱ء سے ۱۹۰۵ء تک پورے چودہ ހ برس مسلسل یہ کیوں کہتے رہے کہ خدا پھر اُس کو تیری طرف لائیگا۔کیا فسخ نکاح کی اطلاع اللہ نے آپ کو نہیں دی تھی۔" ( حرف محرمانہ صفحہ ۲۶۶) الجوار اس کے جواب میں عرض ہے۔کہ نکاح کے فتح یا تاخیر کا اجتہاد تو آخری اجتہاد ہے۔اس سے پہلے تو حضرت اقدس مرزا سلطان محمد کی موت کو اور پھر نکاح کو مبرم قرار دیتے رہے ہیں۔یہ اجتہاد کہ نکاح فسخ ہو گیا۔1906ء کی کتاب حقیقۃ الوحی میں شائع ہوا ہے۔اور یہ اجتہاد آپ نے اس الہام کے بعد کیا ہے جو ۱۸؍ فروری ۱۹۰۶ء میں آپ پر "تكفيك هذه الاَمرَأَةُ“ کے الفاظ میں نازل ہوا تھا۔(تذکره صفحه ۸۳۰) اس الہام کے نازل ہونے پر آپ کو یہ احساس ہوا کہ نکاح یا فسخ ہو گیا ہے یا تاخیر میں پڑ گیا ہے۔مگر اس وقت غالب احساس آپ کو یہی تھا کہ نکاح فسخ ہو گیا ہے۔یعنی مرزا سلطان محمد صاحب کی توبہ کے پائدار ہونے کی وجہ سے منسوخ ہو چکا ہے۔