تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 380 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 380

۳۸۰ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت کی گئی اور وہ یہ تھی کہ ایتھا المرأة تُونِى تُونِي فَإِنَّ البَلاءَ عَلَى عَقِيكِ (اے عورت تو بہ کر کہ مصائب تیرا پیچھا کر رہے ہیں ) پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گی یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ الجواب وو تتمه حقیقۃ الوحی صفحه ۱۳۲) پیشگوئی کو دوبارہ غور سے پڑھیئے یہ نئی شرط وہاں نہیں ملے گی۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۶۶) اس کے جواب میں عرض ہے کہ برق صاحب کہتے ہیں یہ شرط پیشگوئی میں نہیں ملے گی۔مگر یہ الہامی شرط جو توبہ سے تعلق رکھتی ہے۔تتمہ اشتہار دہم جولائی میں نکاح والے الہام کے ساتھ ہی درج ہے کیونکہ اس اشتہار میں اَيَّتُهَا الْمَرْأَةُ تُوبُى تُونِي فَإِنَّ البَلاءَ عَلَى عَقِبكِ کا الہام بھی درج ہے۔جناب برق صاحب یہ نئی شرط وہاں نہیں ملے گی، کہہ کر یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ یہ شرط گویا نئی ایجاد کی گئی ہے تا کہ مخالفین کے اعتراضات سے بچا جائے حالانکہ یہ شرط در حقیقت پرانی ہے اور تمہ اشتہار وہم جولائی ۱۸۸۸ء میں نکاح والے الہام کے ساتھ ہی بصورت الہام مذکور ربی ہے۔پس اس توبہ کی شرط والے پرانے الہام نے ثابت کر دیا ہے کہ جناب برق صاحب کا یہ اعتراض کہ شرط پہلے موجود نہ تھی بابکہ یہ مایوس ہو کر ایجاد کی گئی ہے۔هباء منثورا ہو گیا۔جناب برق صاحب ! سنئیے اگر بالفرض یہ شرط پہلے مذکور نہ بھی ہوتی تو بھی آپ کو پیشگوئی پر اعتراض کا کوئی حق نہ تھا۔کیونکہ مرزا سلطان محمد صاحب کی مورت کی نمبرا : - یہ ترجمہ جناب برق صاحب کا ہے جو بالکل غلط ہے۔