تحقیقِ عارفانہ — Page 376
اس جدید اجتہاد سے جو الہام جدید کی روشنی میں کیا گیا اب حضرت اقدس کا در میانی زمانہ کا اجتہاد جس میں آپ محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند کے تو بہ توڑنے کو اور اس کے بعد نکاح کو ضروری قرار دیتے تھے۔قابل تخت نہ رہا۔پس یہ پیشگوئی اپنی الہامی شرط کے مطابق ظہور پذیر ہو چکی ہے اور اس پیشگوئی کے الہامات پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح حضرت اقدس کا آخری اجتہاد بھی سنت اللہ کے مطابق درست تھا۔اس پر بھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔اس جدید الہام کی وجہ سے درمیانی زمانہ کی عبارتیں جو سلطان محمد صاحب کی موت کو ضروری اور اس کے بعد نکاح کو مبرم قرار دیتی تھیں۔اس شرط سے مشروط کبھی جائیں گی کہ اگر سلطان محمد از خود تو بہ توڑ دیں تو ان کی ہلاکت اور اس کے بعد حضرت اقدس سے نکاح کا وقوع ضرور ہو گا ورنہ نہیں۔پس جدید اجتہاد کی بنا پر اب برق صاحب کی پیش کردہ عبارتیں اوپر کی شرط سے مشروط ہو گئی ہیں۔عبارتیں یوں پڑھی جائیں لہذا اب یہ عبارتیں یوں پڑھی جانی چاہئیں :- -1 (اگر مرزا سلطان محمد کسی وقت تو بہ توڑ کو پیشگوئی کی تکذیب کرے) تو اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آجانا یہ تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح مل نہیں سکتی۔کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ کلمہ موجود ہے لا تبديل لِكَلِمَاتِ الله الله کی بات تبدیل نہیں ہو سکتی) یعنی میری یہ بات ہر گز نہیں ملے گی۔پس اگر مل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے۔اعلان ۶/ ستمبر ۱۸۹۶ء مندرجه تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه (۱۱۵) ایک حصہ پیشگوئی کا یعنی احمد بیگ کا میعاد کے اندر فوت ہو جانا حسب منشاء پیشگوئی صفائی سے پورا ہو گیا اور دوسرے کی انتظار ہے (بشر طیکہ مرزا سلطان محمد