تحقیقِ عارفانہ — Page 24
۲۴ (المنجد) یعنی مستقبل کے متعلق الہام الہی سے غیب کی خبریں دینا نبوت ہے اور نبی کے معنی لغت میں المُخبِرُ عَنِ المُستقبل بالهام مِنَ اللہ لکھتے ہیں (ملاحظہ ہو المنجد) یعنی نبی وہ ہے جو الہام الہی سے آئندہ کے متعلق غیب کی خبریں دے۔قرآن میں لکھا ہے۔عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ (سورۃ الجن : ۲۸،۲۷) 66 یعنی خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب پر کسی کو کثرت سے اطلاع نہیں دیتا بجز اس شخص کے جسے وہ برگزیدہ کرے یعنی رسول بنائے۔پس نبی کے لئے قرآن مجید کی رو سے رسول یعنی مامور ہونا ضروری ہے پس جو شخص لغوی معنی میں نبی ہو قرآنی اصطلاح میں تب نبی ہو سکتا ہے جب کہ وہ رسول بھی ہو۔یعنی خدا تعالیٰ اسے اپنے الہام میں نبی اور رسول قرار دے۔نہیں۔“ حضرت محی الدین ابن عربی تحریر فرماتے ہیں:۔ليست النبوة يا مُرِ زائد عَلَى الاخبار الالهي فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۴۱۲ سوال نمبر ۱۸۸) یعنی نبوت اخبار الهی (اخبار غیبیہ پر اطلاع دیا جانے) سے کسی زائد امر کا نام یہی وہ نبوت ہے جسے اب ابن عربی نے بموجب حدیث نبوی لَمْ يَبْقَ مِنَ النبوة إلا المبشرات (بخاری) قیامت تک جاری قرار دیا ہے اور صرف ایسی نبوت کو منقطع قرار دیا ہے جو اپنے ساتھ شریعت جدید و ر کھتی ہو چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔فَالنُّبُوَّةُ فالنبوة سَارِيَة إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ فِي الخَلْقِ وَ إِنْ كَانَ التَّشْرِيعُ قَدِ " انقطع فا لتشريع جزء من أجزاء النبوة " ( فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحہ ۱۰۰ باب ۷۳) یعنی نبوت مخلوق میں قیامت تک جاری ہے گو شریعت جدیدہ کا لانا منقطع