تحقیقِ عارفانہ — Page 23
۲۳ نبی ہے ورنہ غیر شرعی تو کوئی مومن بھی نہیں ہو سکتا۔چہ جائیکہ کوئی نبی غیر شرعی ہو۔ہم نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی آئے جن کی تورات سے الگ کوئی جدید شریعت نہ تھی۔لہذاوہ غیر تشریعی نبی تھے۔یعنی نہی تو تھے۔مگر کوئی شریعت جدیدہ نہ لائے تھے۔بلکہ ان کی شریعت موسی کی کتاب توراپ ہی تھی۔پھر قرآن کریم سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ نبوت شریعت سے ایک الگ شے ہے جو بیٹک ملتی تو ایک نبی کو ہی ہے۔لیکن ہر نبی کے ساتھ الگ شریعت کا آنا لازم اور ضروری نہیں۔چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔ماکان لبشر أن يؤتيه الله الكتب والحكم و النُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِى مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِن كُونُوا رَبَّانِينَ بِمَا كنتم تعلمون الكتب و بِمَا كُنتُم تَدْرُسُونَ (آل عمران : ۸۰) یعنی کسی انسان کے شایان شان نہیں کہ اللہ اس کو کتاب اور حکم اور نبوت دے تو وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ بلکہ وہ تو یہی کہتا ہے کہ تم خدا ہی کے ہو جاؤ۔کیونکہ تم کتاب الہی کی تعلیم دیتے ہو اور اس لئے کہ تم اس کی حفاظت کرتے ہو۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھر کو تین چیزیں دی جاتی ہیں الکتاب، الحكم النبوة ، پس النبوۃ، الکتاب اور الحکم تین الگ الگ اشیاء ہیں۔اسی لئے النبوۃ کا عطف الحکم پر اور الحکم کا عطف الکتاب پر کیا گیا ہے کیونکہ عطف مغایرت کو چاہتا ہے پس الحوة ، الكتاب اور الحکم تینوں الگ الگ امور ہیں لہذا النبوۃ کے لئے کسی الگ کتاب کا ملنا ضروری نہ ہوا جیسا کہ آیت يَحْكُمُ بها النبيُّون سے ثابت کیا جا چکا ہے۔ہاں نبی کے لئے کتاب کی تعلیم و تدریس ضروری ہے۔خواہ وہ جدید کتاب لائے یا وہ کسی پہیلی شریعت پر قائم رکھا جائے۔نبوت اور نبی کے لغوی معنی نبوت کے لغوی معنی ہیں "الاحْبَارُ عَنِ الْمُسْتَقْبِلِ بِالْهَامِ مِنَ اللَّهِ