تحقیقِ عارفانہ — Page 328
۳۲۸ جگہ متبنیٰ مراد نہیں کیونکہ متبنی کی تو خاص ضرورت ہوتی ہے۔پس اس آیت کے لفظ زنیم کے جب کئی مفسرین کے نزدیک بھی ولد الزنا کے معنی ہی مراد ہیں تو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی اگر اس آیت کے ترجمہ میں اس لفظ کے معنی ولد الزنا لکھے ہیں۔تو ان پر برق صاحب کو زبان عربی کے لحاظ سے اعتراض کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ہیں۔الدر المنثور مطبوعہ مصر میں زیر بحث آیت کے ذیل میں یہ الفاظ لکھے گئے واخرج ابن الانبارِئُ في الوَقْفِ وَالْابْتَدَاءِ عَنْ عِكْرَمَةَ أَنَّهُ سُئِلَ عَن الزَّنِيمِ قَالَ هُوَ وَلدَ الزَّنَا وَتَمَثَل بِقَوْلِ الشَاعِرِ زَنِيمٌ لَيْسَ يُعْرِفُ مَنْ أَبُوهُ بِغَى الام ذُو حَسَبِ لِقِيمٍ ترجمہ : - ابن الانباری نے (اپنی کتاب) الوَقْفُ وَالْاِبْتَدَاء“ میں اس روایت کی عکرمہ سے تخریج کی ہے کہ حضرت عکرمہ سے زنیم کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا وہ ولد الزنا ہے اور شاعر کے ایک قول کو (اپنے معنی کی شہادت) پر بطور مثال کے یوں پیش کیا۔وہ زنیم ہے معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کا باپ کون ہے بد کار ماں کا بیٹا کمینے حسب والا ہے۔امید ہے کہ ان حوالہ جات سے برق صاحب کی تسلی ہو جائے گی۔کہ عربی زبان میں زنیم کا لفظ ضرور ولد الزنا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کے علاوہ دوسرے مفسرین نے بھی اس آیت کی تفسیر میں اس کے معنی ولد الزنا کئے ہیں۔اور متبادر معنی اس لفظ کے ولد الزنا ہی ہیں۔اگر کسی غیر ولد الزنا کے