تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 322 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 322

۳۲۲ علامات قیامت میں سے ایک علامت نفخ صور ہے ونُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ الأَمَاشَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامُ يَنْظُرُونَ 66 (الزمر : ٢٩) اس کا ترجمہ برق صاحب یہ لکھتے ہیں کہ :- ” جب وہ قرنا پھونکی جائے گی تو ساکنان ارض و سماء کی چیخیں نکل جائیں گی الاماشاء اللہ اور جب دوسری مرتبہ پھونکی جائے گی تو لوگ قبروں سے نکل کر ادھر ادھر دیکھنے لگیں گے۔“ پھر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے متعلق مرزا صاحب کا ارشاد یہ ہے کہ :- " قرنا سے مراد مسیح موعود ہے۔" (شهادة القرآن صفحه ۲۵) آگے لکھتے ہیں :- بہت اچھا مسیح موعود سی پہلی پھونک پر اہل زمین و آسمان کے شیخ اٹھنے اور دوسرے پر مردوں کے جی اٹھنے سے کیا مر دا ہے ؟“ اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں ( یعنی حضرت مرزا صاحب) کہ :- آخری دنوں میں سود زمانے آئیں گے ایک ضلالت کا زمانہ اور اس میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہو جائے گی۔پھر دوسر ازمانہ ہدایت کا آئے گا۔پس نا کہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔(شمادة القرآن صفحہ ۲۶) اس اقتباس کے درمیان برق صاحب خطوط وحدانیہ کے درمیان یہ نوٹ دیتے ہیں :- لیکن قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ پہلی پھونک پر اہل زمین و آسمان کی فریاد میں نکل جائیں گی۔اور آپ فرماتے ہیں کہ غفلت سی طاری ہو گی یہ غفلت اور تین کا آپس میں کیا تعلق ؟ غفلت میں تو نیند آتی ہے نہ کہ چینیں نکلتی ہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۴۱)