تحقیقِ عارفانہ — Page 320
۳۲۰ پر بھی اطلاق پاتا ہے۔اور یہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کریم کے لئے ظاہر بھی ہے اور بکن بھی۔پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کے لئے جمع ہوں توامنا و صدقنا لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ کی اکثر علامات بیان فرما کر پھر آخیر پر یہ بھی فرما دیا کہ اس وقت رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے تو قرائن ہینہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی اپنے مرسل کو بھیجے گا۔تا مختلف قوموں کا فیصلہ ہو چونکہ قرآن شریف سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ظلمت عیسائیوں کی طرف سے ہو گی۔تو ایسا مامور من اللہ بلا شبہ انہی کی دعوت کے ،، لئے اور انہی کے فیصلہ کے لئے آئیگا پس اسی مناسبت سے اس کا نام عیسی رکھا گیا۔“ (شهادة القرآن صفحه ۲۴) برق صاحب نے جب یہ مضمون پڑھا ہے تو پھر انہیں اگر رسل کے معلمی پر اعتراض تھا تو انہیں ہم سے صرف یہ سوال کرنا چاہیئے تھا کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد کے لئے کہاں استعمال ہوا ہے ؟ یہ سوال کرنے میں وہ حق جانب قرار دئے جاسکتے تھے۔سو واضح ہو کہ برق صاحب سورۃ الشعراء کا مطالعہ کر کے دیکھیں جس میں مندرجہ ذیل آیات موجود ہیں :- - ا: - كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوحٍ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمُ أَعُوهُمْ نُوح الا تقون إلى لكُم تَتَّقُونَ إِنِّي رَسُولُ أَمِينٌ (۱۰۶ تا ۱۰۸) ۲ - كَذَّبَتْ عَادُ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ هُودُ اَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمْ رَسُولُ آمِينَ (۱۲۴ تا ۱۲۶) : كَذَبَتْ ثَمُودُ المُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَالِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمْ رَسُولُ امين - (۱۴۲ تا ۱۴۴)