تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 21 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 21

۲۱ میں محترم برق صاحب نے وَالَّذِى اَوْحَيْنَا إِلَيكَ كا ترجمہ ہی چھوڑ دیا ہے۔پھر افسوس ہے کہ برق صاحب نے اس جگہ پوری آیت نقل نہیں کی اس کے بعد کا حصہ یوں ہے۔اَنْ اَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ اس حصے کے بغیر اس آیت کا صحیح مفہوم ظاہر ہی نہیں ہو سکتا۔(ملاحظہ ہو سورۃ الشوریٰ : ۱۴) پھر اس پوری آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ "اے محمد (اصولی طور پر) ہم نے تم کو وہی دین دیا ہے جس کی ہم نے نوح کو وصیت کی تھی اور جو ہم نے تیری طرف وحی کیا ہے اور جس کی ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسی کو تاکید کی تھی وہ دین یہ تھا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو دنیا میں قائم کرو اور اس کے بارہ میں کبھی تفرقہ نہ کیا کرو۔“ پس اس آیت کا منشاء صرف یہ ہے کہ اصولی دین جو تمام نبیوں کا ایک ہی رہا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت دنیا میں قائم کی جائے اور اس بات میں تفرقہ نہ کیا جائے اس آیت کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ قرآن مجید پہلی شریعتوں سے کوئی الگ اور جدید شریعت نہیں ہے۔کیونکہ قرآن مجید بعض احکام جدیدہ پر بھی مشتمل ہے لہذا آیت کے ایسے معنے لینا جو واقعات مشہودہ محسوسہ کے صریح خلاف ہوں جائز نہیں۔قرآن شریف نے تو پچھلی شریعتوں کے احکام کو منسوخ بھی کیا ہے اور جدید احکام بھی دیئے ہیں۔مثلاً یہودیوں کے سبت کو منسوخ کیا اور اس کی جگہ جمعہ کا دن مقرر فرمایا۔حاشیہ کی آیت کا حل حرف محرمانہ کے صفحہ ۱۹ کے حاشیہ میں برق صاحب نے ایک اور آیت بھی درج فرمائی ہے جو یوں ہے۔فَبَعَتَ اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَ أَنْزَلَ مَعَهُمُ الكتاب (البقرہ : ۲۱۴)۔کہ ہم نے تمام انبیاء کو مبشر اور منذر بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اتاری۔مگر اس آیت میں یہ ہر گز نہیں کہا گیا کہ تمام نبی الگ الگ شریعت