تحقیقِ عارفانہ — Page 302
اللہ نے مرزا کی شوخیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے سہ سالہ میعاد میں سے جو ، جولائی 1909 ء کو پوری ہوتی ہے۔دس مہینے اور گیارہ دن اور گھٹا دئیے اور مجھے یکم جولائی ۱۹۰۷ء کو الہا نا فرمایا کہ مرزا آج سے چودو ماہ تک یہ سزائے موت ہادیہ میں گرایا جائے گا۔“ برق صاحب لکھتے ہیں اس کے جواب میں جناب مرزا صاحب نے ۵/ نومبر عشاء کو ایک اشتہار بعنوان تبصرہ شائع کیا۔جس میں یہ الہام بھی درج تھا۔اپنے دشمن سے کہہ دے خدا تجھ سے مؤاخذہ کرے گا اور تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی 1906ء سے صرف چودہ مہینے تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔یا ایسا ہی دوسرے دشمن جو پیشگوئی کرتے ہیں ان سب کو میں جھوج (حرف محرمانه صفحه ۲۲۵) کروں گا۔“ اس کے بعد برق صاحب حضرت اقدس کی عبدالحکیم خان کی پیشگوئی کے متعلق چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۱، ۳۲۲ کی عبارت لکھتے ہیں۔جس میں اس کی پیشگوئی کے بالمقابل لکھا ہے۔” اس پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا ہو گا۔اور خدا اس کو ہلاک کرے گا۔اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔“ اس پر برق صاحب بطور نتیجہ لکھتے ہیں :- وو مقابلہ کی صورت بالکل صاف ہو گئی کہ ڈاکٹر نے کہا جناب مرزا صاحب کی وفات ۴ / اگست ۱۹۰۸ء سے پہلے ہو گی۔مرزا صاحب نے فرمایا اللہ نے مجھے لمبی عمر کی بشارت دی ہے نیز کہا میں ان سب کو جھوٹا کروں گا۔۔۔خدا صادق کی مدد کریگا۔لیکن ہوا کیا یہی کہ چند روز بعد جناب مرزا صاحب کا انتقال ہو گیا۔اور ڈاکٹر برسوں بعد زندہ رہا۔قدر تا سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا وہ وعدہ کیا ہوا۔"اپنے دشمن سے کہہ دے