تحقیقِ عارفانہ — Page 285
۲۸۵ ریاست کو زیر اثر لانے کے لئے انہیں مدد دے رہی ہے۔تو امام جماعت احمدیہ نے اس کے خلاف بھی احتجاج کیا اور خود لارڈ چمیفورڈ کو لکھا کہ مسلمان عرب پر انگریزی حکومت کا تسلط کسی صورت میں بھی پسند نہیں کر سکتے۔(ملاحظہ ہو الفضل مؤرخہ ۳ ستمبر ۱۹۳۵ء) والی حجاز شریف حسین کی حمایت جب حضرت امام جماعت احمدیہ کو یہ معلوم ہوا کہ انگریزوں نے والی حجاز شریف حسین سے عرب کو متحد کر دینے کا جو وعدہ کیا تھا اسے پورا نہیں کر رہے تو آپ نے اس کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔چنانچہ ۲۱ جون کو شملہ میں لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند کو جماعت احمدیہ کی طرف سے جو ایڈریس دیا گیا اس میں حجاز کی آزادی کا مسئلہ خاص طور پر پیش کیا گیا۔اس ایڈریس کے بعض فقرات یہ ہیں۔”ہمارے نزدیک اس سے بھی زیادہ یہ سوال اہم ہے کہ حجاز کی آزادی میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہیئے۔جب حجاز کی آزادی کا سوال پیدا ہوا ہے تو اس وقت یہی سوال ہر ایک شخص کے دل میں کھٹک رہا تھا۔کہ کیا ترکوں سے اس ملک کو آزاد کرنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بوجہ بنجر علاقہ ہونے کے وہاں کی آمد کم ہو گئی۔اور حکومت کے چلانے کے لئے ان کو غیر اقوام سے مدد لینی پڑے گی۔اور اس طرح کوئی یورپین حکومت اس کو مدد دے کر اس کو اپنے حلقہ اثر میں لے آئے گی۔“ نئی خبریں اس شبہ کو بہت تقویت دینے لگی ہیں۔رپورٹر نے پچھلے دنوں مسٹر چرچل جو وزیر نو آبادی ہیں ان کی ایک سکیم کا ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر حجاز گور نمنٹ اپنے بیرونی تعلقات کو برٹش گورنمنٹ کی نگرانی میں دے دے اور اندرون ملک امن کا ذمہ لے تو گورنمنٹ برطانیہ اس کو سالانہ مالی امداد دیا کرے گی۔