تحقیقِ عارفانہ — Page 271
۲۷۱ اس اقتباس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حضرت اقدس نے ایسے کوئی نقشہ جات گورنمنٹ کو ان لوگوں کے نام اور پتے کے ساتھ بھیج دیے تھے جو در پر وہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب سمجھتے تھے۔چنانچہ برقی صاحب نے یہی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس جگہ لکھا ہے۔” جناب مرزا صاحب نے اپنی جماعت کی مدد سے ایسے علماء و عوام کی فہرست تیار کی جو ذہنا حکومت برطانیہ کو پسند نہیں کرتے تھے۔پھر یہ فہرست بھیج کر حکومت کو لکھا۔“ اس عبارت کے بعد مندرجہ بالا حوالہ درج کیا ہے۔یہ تاثر کہ آپ نے کوئی ایسی فهرست حکومت کو بھیجی حوالہ میں برق صاحب کے خطر ناک تحریف کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے کوئی ایسی فہرست حکوت کو نہیں بھیجی بلکہ صرف تجویز تھی کہ ایسا کیا جائے۔چنانچہ "جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دار الحرب سمجھتے ہیں۔“ کے آگے حضرت اقدس لکھتے ہیں :- ایسے نقشے ایک پولیٹیکل راز کی طرح اس وقت تک ہمارے پاس محفوظ رہیں گے جب تک گورنمنٹ ہم سے طلب کرے۔“ اس کے بعد برق صاحب کی پیش کردہ عبارت ” ہم امید کرتے ہیں۔“ شروع ہوتی ہے اور دفتر میں محفوظ رکھے گی تک چلتی ہے۔اس کے بعد کی یہ عبارت برق صاحب نے حذف کر دی ہے۔اور بالفعل یہ نقشے جن میں ایسے لوگوں کے نام مندرج ہیں گورنمنٹ میں نہیں سمجھے جائیں گے صرف اطلاع دہی کے طور پر ان میں سے ایک سادہ نقشہ چھپا ہوا جس پر کوئی نام درج نہیں۔فقط یہی مضمون درج ہے ہمراہ درخواست بھیجا جاتا ہے۔(اشتہار مندرجه تبلیغ رسالت جلد ۵ صفحه ۱۱ عنوان قابل توجہ گورنمنٹ از