تحقیقِ عارفانہ — Page 270
۲۷۰ صاحب بٹالوی کی طرح کسی جاگیر و جائداد کے متمنی نہ تھے چونکہ آپ نے ملکہ معظمہ کو تحفہ قیصریہ کے ذریعے دعوت اسلام دی تھی۔اور جیسا کہ ہر مبلغ طبعا یہ چاہتا ہے کہ اپنی تبلیغ کے اثرات معلوم کرے اسی لئے آپ نے تحفہ قیصریہ کی ملکہ معظمہ کی طرف سے رسید نہ ملنے پر یہ عبارت لکھی تا ملکہ معظمہ کا تاثر معلوم ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ معظمہ اس دعوت سے متاثر ضرور تھی۔مگر وہ سیاسی وجوہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو مجبور پارہی تھی۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ملکہ معظمہ کی قلبی کیفیت اور تاثر کو اپنے الہام قیصرہ ہند کی طرف سے شکریہ کے الفاظ سے بیان کیا کہ وہ آپ کی اس دعوت اسلام پر اپنے دل میں شکر گزار ہے۔مگر جناب برق صاحب نے منکرین انبیاء کے طریق پر اس الہام کو بھی تمسخر و استہزاء کا ذریعہ بنالیا ہے اور لکھا ہے۔جب مذکورہ بالا یاد دہانی کے باوجود سفید فام آقاؤں کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو جبرائیل آیا اور کہا۔قیصرہ ہند کی طرف سے شکریہ۔“ برق صاحب کی خطر ناک تحریف حرف محرمانہ کے صفحہ ۱۸۶ پر حوالہ تبلیغ رسالت جلد نمبر ۵ صفحه ااجناب برق صاحب نے خطر ناک تحریف کے ساتھ حضرت اقدس کی ایک عبارت یوں پیش کی ہے۔" قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں۔جو در پر وہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب سمجھتے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ ان نقشوں کو ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی۔ایسے لوگوں کے نام مع پتہ و نام یہ ہیں۔“