تحقیقِ عارفانہ — Page 17
12 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا مذہب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نہی جو ان کی امت سے باہر ہو۔(یہی مذہب امام علی القاری کا اوپر بیان ہوا ہے۔ناقل ) (چشمہ معرفت صفحه و طبع اول) نیز تحریر فرماتے ہیں :- ما حصل اس آیت ( خاتم النبین ) کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقام نبوت حاصل کرے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے منتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمد یہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔" ( ریویویر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی صفحہ ۷ ) پھر تحریر فرماتے ہیں :- " میری مراد نبوت سے یہ نہیں کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مراد میری نبوت سے کثرتِ مکالت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف نزاع لفظی ہوئی۔یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ مخاطبہ رکھتے ہیں میں اسکی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔(تتمه حقيقة الوحی صفحه ۶۸ طبع اوّل) ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے نزدیک بھی خاتم النسین مہینے کے بعد کوئی جدید شریعت لانے والا یا کوئی مستقل نبی نہیں آسکتا۔ہاں صلى الله