تحقیقِ عارفانہ — Page 268
۲۶۸ توقف ہوتی۔تو وہ عورت کو ساتھ لے جاتا۔یا اگر عورت ساتھ نہ جانا چاہتی تو وہ ایک دوسر انکاح اس ملک میں کر لیتا۔لیکن عیسائی مذہب میں چونکہ اشد ضرورتوں کے وقت میں بھی دوسرا نکاح نا جائز ہے۔اس لئے بڑے بڑے مدیر عیسائی قوم کے جب ان مشکلات میں آپڑتے ہیں تو نکاح کی طرف ان کو ہر گز توجہ نہیں ہوتی۔اور بڑے شوق حرامکاری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔جن لوگوں نے ایکٹ چھاؤنی ہائے نمبر ۱۳ ۱۸۸۹ء پڑھا ہو گا وہ اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ عیسائی مذہب کی پابندیوں کی وجہ سے ہماری مدیر گورنمنٹ کو یہی مشکلات پیش آگئیں۔" (آریہ دھرم صفحه ۷۱،۷۰ ) چونکہ موجودہ اناجیل کے لحاظ سے حضرت مسیح نے دوسرے نکاح کی اجازت نہ دی تھی۔اس لئے انگریزی حکومت مجبور تھی کہ ایکٹ نمبر ۱۳ ۱۸۸۹ء جس کا ذکر حضرت اقدس نے اوپر کی عبارت میں کیا ہے۔عیسائیت میں کسی دوسرے مؤقت یا غیر مؤقت نکاح کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے جاری کرتی۔کیونکہ دوسر انکاح بھی عیسائی مذہب کے نزدیک حرامکاری کے ہی مترادف تھا۔خواہ مؤقت ہو یا غیر مؤقت۔لیکن فوج میں حرامکاری کے بد نتائج آتشک کی بیماری کو دیکھ کر گورنمنٹ گھبرا اٹھی۔اور اس قانون کو منسوخ بھی کر دیا۔لیکن چونکہ فطرتی قانون تقاضا کرتا تھا کہ جائز طور پر یانا جائز طور پر شہوانی جذبات کا تدارک کیا جائے لہذا پھر اسی پہلے قانون کو جاری کرنے کے لئے اس وقت سلسلہ جنبانی ہو رہی تھی۔جس وقت حضرت اقدس نے آریہ دھرم کی یہ عبارتیں لکھیں۔بیان مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ برق صاحب کے پیش کردہ فقرہ میں حضرت اقدس نے حکومت کو یہ مشورہ نہیں دیا ہے کہ وہ متعہ کا طریق جاری کرے۔بلکہ اس میں ان کی مشکلات کو بیان کیا ہے کہ وہ فوجیوں کو زنا سے چانے کے لئے متعہ کا