تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 267 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 267

۲۶۷ ان اقتباسات سے ظاہر ہے۔کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک متعہ جو ایک موقت نکاح تھا۔اسلام میں قیامت تک کے لئے حرام کر دیا گیا۔لیکن اسے زنا ہونے کی وجہ سے حرام قرار نہیں دیا گیا۔بلکہ اسے بعض اور معاشرتی قباحتوں کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے۔اگر یہ زنا کے مترادف ہو تا تو آنحضرت ﷺ صحابہ کو اپنے اجتہاد سے بھی کسی وقت اس کی اجازت نہ دیتے۔عربوں میں یہ رسم پہلے سے جاری تھی۔اور اُسے نکاح کی ایک جائز صورت سمجھا جاتا تھا۔اور آنحضرت ﷺ کا وحی نازل ہونے سے پہلے یہ طریق تھا۔کہ جب تک خدا تعالیٰ کی وحی کسی کام سے روک نہ دے اس وقت تک آپ اس میں روک نہیں ہتے تھے۔پس اس کا حرام ہونا تو حضرت اقدس کو مسلم ہے اور مسلمانوں کے لئے آپ اس فعل کو از روئے شرع اسلام جائز نہیں سمجھتے۔لیکن انگریز حکومت تو مسلمان نہ تھی۔اس لئے زنا سے اپنے فوجیوں کو چانے کیلئے وہ موقت نکاح کا طریق جاری کر دیتی تو اس کے سپاہی زنا سے تو بچ جاتے مگر وہ اسے اس لئے اختیار نہ کر سکی کہ عیسائیت از روئے انجیل دوسرے نکاح کو جائز نہیں سمجھتی۔اگر وہ اسے جائز سمجھتی۔تو پھر یقیناً حضرت اقدس کو یہ فقرہ نہ لکھنا پڑتا کہ :- "کاش اس جگہ متعہ بھی ہو تا۔تو لاکھوں بندگانِ خدا زنا سے تو بچ جاتے۔“ پس حضرت اقدس اس جگہ حکومت کو متعہ کا طریق جاری کرنے کا مشورہ نہیں دے رہے کیونکہ اس عبارت کے سیاق سے یہ ظاہر ہے ( جسے جناب برق صاحب نے ملحوظ نہیں رکھا) کہ یہ فقرہ حضرت اقدس نے عیسائی مذہب کی خرابی ظاہر کرنے اور اسلام کی اس پر برتری ثابت کرنے کے لئے لکھا ہے چنانچہ اس اقتباس سے پہلے آپ نے تحریر فرمایا ہے :- اسلام میں یہ دستور تھا کہ اگر کوئی ایسے سفر میں جاتا جس میں کئی سال کی