تحقیقِ عارفانہ — Page 260
۲۶۰ باغیانہ خیالات نہ رکھے جائیں۔ہاں اگر اس سلطنت کا ظلم نا قابل برداشت ہو جائے تو وہاں سے ہجرت کی جائے۔حضرت یوسف نے مصر میں بت پرست بادشاہ کی ماتحتی میں ایک لمبے عرصہ یک زندگی بسر کی۔بلکہ اس کے ماتحت کارکن رہے اور سب سے بڑھ کر سرور کا ئنات ﷺ کا طرز عمل بھی یہ بتاتا ہے کہ آپ نے مکہ کی حکومت کے خلاف کوئی بغاوت نہیں کی۔بلکہ جب اس کا ظلم انتہا تک پہنچ گیا تو آپ نے اور آپ کے ماننے والوں نے وہاں سے ہجرت اختیار کی۔حضرت بائی سلسلہ احمدیہ کا فرض منصبی تبلیغ و اشاعت دین تھا۔انگریزوں کی حکومت میں اس بارے میں آپ کو پوری آزادی حاصل تھی اور انگریزوں نے چونکہ آپ سے عدل کا سلوک کیا۔اس لئے انگریز آپ کے شکریہ کے مستحق تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللَّهَ۔بالآخر یاد رہے کہ انبیاء راست باز اور پار سا طبع لوگ اگر کسی ایسی غیر ملکی حکومت کے ماتحت رہتے ہوں جو انہیں مذہبی آزادی دیتی ہو تو وہ اپنے آپ کو غلام نہیں سمجھتے کیونکہ مذہبی طور پر وہ آزاد ہیں۔اور سیاسی لحاظ سے ان کی حرکات و سکنات حکومت کے لئے کسی تشویش کا موجب نہیں ہو تیں۔پس وہ ذہنی طور پر بھی آزاد ہوتے ہیں اور اصل آزادی ذہنی آزادی ہی ہے۔ورنہ دنیا میں تو انسان کو کسی نہ کسی کی ماتحتی ضرور اختیار کرنا ہی پڑتی ہے۔بعض حوالہ جات کی تشریح جناب برق صاحب نے ۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے متعلق حضرت اقدس کا یہ قول نقل کیا ہے۔ہن لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن