تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 16 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 16

۱۶ حضرت مولوی عبدالحی صاحب حنفی لکھنوی کا قول ہیں :- " حضرت مولوی عبدالی صاحب لکھنوی اپنی کتاب دافع الوسواس میں لکھتے علماء اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہو سکتا۔اور نبوت آپ کی تمام مکفین کو شامل ہے۔جو نبی آپ کے ہم عصر ہو گا۔وہ قبع شریعت محمد یہ ہو گا۔" وافع الوسواس فی اثر ائن عباس صفحہ ۳) بعد آنحضرت عی بازمانہ میں (آنحضرت) کے مجرد کسی نبی کا ہونا محال نہیں۔بلکہ صاحب شرع جدید ہو نا البتہ ممتنع ہے۔" (دافع الوسواس فی اثر این عباس صفحه ۱۲) مولانا حکیم صوفی محمد حسین صاحب کا قول ہیں :- مولانا حکیم صوفی محمد حسین صاحب مصنف غائت البرہان تحریر فرماتے الغرض اصطلاح میں نبوت بخصوصیت الہیہ خبر دینے سے عبارت ہے۔وہ دو قسم کی ہے۔ایک نبوت تشریعی۔جو ختم ہو گئی ہے۔دوسری نبوت بمعنی خبر دادن ہے وہ غیر منقطع ہے پس اس کو مبشرات کہتے ہیں اپنے اقسام کے ساتھ اس میں سے رویا بھی ہے۔“ (کواکب دریه صفحه ۱۴۸،۱۴۷) پس فقہاء امت و صوفیاء ملت اس بات کے قائل چلے آتے ہیں کہ خاتم الله النبین کی آیت آنحضرت ﷺ کے بعد صرف تشریعی نبی کے آنے میں مانع ہے۔نبوت سمعنے اخبار غیبیہ کے ملنے میں مانع نہیں۔