تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 222 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 222

۲۲۲ بھی جو مسیح موعود کے لئے ہمنزلہ ظل کے ہو ممتنع نہیں چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں۔واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کی روسے ضروری قرار پاچکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا۔اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیشگوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔لیکن اگر کسی کے دل میں یہ خلجان پیدا ہو کہ بعض احادیث کی اس آنے والے مسیح کی حالت سے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی جیسے مسلم کی دمشقی حدیث تو اول تو اس کا یہی جواب ہے کہ در حقیقت یہ سب استعارات ہیں اور مکاشفات ہیں استعارات غالب ہوتے ہیں۔بیان کچھ کیا جاتا ہے اور مراد اس سے کچھ لیا جاتا ہے سو یہ ایک بہت بڑاد ھو کہ اور غلطی ہے جو ان کو ظاہری طور پر مطابق کرنے کے لئے کوشش کی جائے پھر بعد اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ظاہر پر ہی ان بعض مختلف حدیثوں کو جو ہنوز ہمار کی حالت موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیا جائے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ ان پیشگوئیوں کو اس عاجز کے ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں پورا کر دیوے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا رتبہ رکھتا ہو۔اور ہر ایک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کے ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا در حقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔بالخصوص جب بعض متبعین فنافی الشیخ کی حالت اختیار کر کے ہمارا ہی روپ لے لیں اور خدا تعالیٰ کا فضل انہیں وہ مرتبہ ظلی طور پر خش دیوے جو ہمیں بخشا تو اس صورت میں بلا شبہ ان کا ساختہ پر داختہ ہمار ا ساختہ پر داخته ہے۔کیونکہ جو ہماری راہ پر چلتا ہے وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتا ہے وہ در حقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے اس لئے وہ جز اور شاخ ہو نیکی وجہ سے مسیح موعود کی پیشگوئیوں میں بھی شریک ہے کیونکہ وہ کوئی جدا