تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 213 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 213

۲۱۳ منکرین حدیث کا جواب ہاں ایسے منکرین حدیث کے لئے ہمارا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر گز بیان نہیں کیا گیا کہ حضرت موسیٰ" کے بعد بنی اسرائیل میں ہزار ہا نبی ہوئے ہیں۔قرآن مجید نے تو چند ایک نبیوں کا نام لیا ہے اور یہ جو فرمایا ہم نے کئی رسولوں کا ذکر نہیں کیا۔اس سے مراد دوسری قوموں کے رسول ہو سکتے ہیں۔جو مثلا ہندؤں، چینیوں اور فارسیوں اور دیگر اقوام عالم میں مبعوث ہوئے۔پس قرآن کریم کے ماننے والے کو آیت استخلاف کے رو سے سلسلہ محمدی اور سلسلہ موسوی میں مشابہت بہر حال مانی پڑے گی۔جزوی مشابہت کے تو برق صاحب بھی قائل ہیں۔انہیں صرف مشابہت تامہ کے لفظ پر اعتراض ہے۔حالانکہ یہ اعتراض بھی ان کا دراصل ان کے مشابہت تامہ کے اپنے مزعوم معلمی پر مبنی ہے۔ور نہ علماء بلاغت کے نزدیک مشابہت تامہ کے وہ معنی نہیں جو برق صاحب سمجھتے ہیں۔علماء بلاغت کے نزدیک تو کسی جگہ اگر صرف ایک امر میں ہی علی وجہ الا تم مشابہت پائی جائے تو اس جگہ مشابہت تامہ کا تحقق سمجھا جائے گا۔جیسا کہ استعارہ میں مشابہت تامہ ہی مراد ہوتی ہے۔خواہ وہ کسی جزوی امر میں ہی ہو۔لہذا اگر سلسلہ موسوی میں پہلے نبی اور سلسلہ محمدی کے پہلے نبی اور سلسلہ موسوی کے آخری خلیفہ۔اور سلسلہ محمدی کے آخری خلیفہ میں بعض اہم امور میں مشابہت ہو تو دونوں سلسلوں میں مشابہت تامہ متحقق سمجھی جائے گی۔خواہ درمیانی زمانہ کے خلفاء میں مشابہت تامہ نہ بھی ہو۔پس جناب برق صاحب کو اس بحث میں حضرت اقدس سے محض نزاع لفظی ہے۔ورنہ از روئے قرآن مجید تو دونوں سلسلوں میں مشابہت ضرور موجود ہونی چاہیئے اور یہ تبھی ہو سکتی ہے کہ کم از کم دونوں سلسلوں کے اول و آخر میں ضرور باہم مشابہت