تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 205 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 205

۲۰۵ ( یعنی ان خلفاء کا انکار اور ان کی عدم اطاعت خدا تعالیٰ سے بغاوت کے مترادف ہو گی) اس آیت میں امت محمدیہ کے خلفاء کو ان سے پہلے گذرے ہوئے خلفاء سے لفظ کما کے ذریعے تشبیہ دی گئی ہے۔چونکہ امت محمدیہ سے قریب ترین خلفاء حضرت موسیٰ کے بعد آنے والے موسوی شریعت کے تابع انبیاء ہی تھے۔اور بنی اسرائیل میں آخری خلیفہ حضرت عیسی تھے اس لئے ضروری تھا کہ سلسلہ محمدیہ کا آخری خلیفہ حضرت عیسے کا میل ہو۔قرآن میں اللہ تعالی نے آنحضرت ﷺ کی شان میں انا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولاً شَاهِداً عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً - (المزمل : ١٦) فرما کر آپ کو حضرت موسیٰ کا میل قرار دیا ہے۔لہذا ان دونوں آیتوں کا مفاد یہ ہوا کہ سلسلہ محمدیہ سلسلہ موسوی سے مشابہت رکھتا ہے۔سلسلہ محمدیہ کے پہلے نبی آنحضرت ہے مثیل موسیٰ ہیں اور اس سلسلہ کا آخری خلیفہ سور نور کی آیت مذکورہ کی رو سے مثیل عیسی ہے۔اس طرح اول اور آخر کی مشابہت سے دونوں سلسلوں میں مشابہت کا تحقق ضروری تھا۔پس قرآن کریم کی اس نص میں امت محمدیہ کو ایک فیل مسیح کا وعدہ دیا گیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس موعود خلیفہ کو حضرت مسیح کاشیل قرار دینے کے لئے فرمایا كيف أَنتُمْ إِذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَمَا مُكُم مِنكُمُ یعنی تم کیسی حالت میں ہو گئے جب کہ تم میں ابن مریم نازل ہو گا۔اور وہ تم میں سے تمہارا امام ہو گا۔اس جگہ اس موعود خلیفہ کو ائن مریم کا نام حضرت عیسی سے مماثلت کی وجہ سے استعارہ کے طور پر دیا گیا ہے۔مسلم شریف کی ایک حدیث میں واما مُكُم مِنكُمْ کی جائے فَامُكُم منكم کے الفاظ وارد ہیں اس طرح ان دو نو حد بیٹوں میں اس ان مریم کو امت محمدیہ کے افراد میں سے ایک فرد قرار دے کر امت کا لام قرار دیا گیا ہے۔