تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 200 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 200

۲۰۰ ہو سکتا۔پس چونکہ افتراء کر نیوالے انسان کو ہی قطع و تعین کی سزادی جاسکتی ہے۔اس لئے علماء امت نے اس آیت میں رسول کریم سے مراد فرشتہ نہیں لیا۔بلکہ آنحضرت ﷺ ہی مراد لئے ہیں۔چونکہ آنحضرت ۲۳ سال کا لمبا عرصہ اپنے دعوئی پر قائم رہے اور دن د گئی اور رات چوگنی ترقی کرتے رہے اور آپ کی قطع و تین نہ ہوئی بلکہ آپ نے وحی کا دعوی کرنے کے بعد لمبی عمر پائی۔اس لئے فقہاء امت نے اس سے یہ معیار اخذ کیا ہے :- وو فَإِنَّ الْعَقَلَ يَجْزِمُ بِاِمْتِنَاعِ اِجْتِمَاعِ هَذِهِ الْأُمُورِ فِي غَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ فِي حَقِ 66"۔مَنْ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَفْتَرِى عَلَيْهِ ثُمَّ يُمْهِلُهُ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ سَنَةٌ “ ( شرح عقائد نسفی صفحه ۱۰۰) یعنی " عقل اس بات کو نا ممکن قرار دیتی ہے کہ یہ باتیں ایک غیر نبی میں جمع ہو جائیں اس شخص کے حق میں جس کے متعلق خدا جانتا ہے کہ وہ خدا پر افتراء کرتا ہے۔پھر اس کو ۲۳ سال کی مہلت دے۔“ عمر پا سکے۔گویا اس معیار کی رُوئے ممکن نہیں کہ کوئی جھوٹا مدعی نبوت ۲۳ سال کی لمبی ایک اور طرح سے فہمائش ہم اس موقعہ پر برقی صاحب کو ایک اور طرح سے بھی سمجھانا چاہتے ہیں۔ان پر واضح ہو کہ اگر ہم علی سبیل التنزل ان کی یہ بات مان بھی لیں کہ رسول کریم سے مراد فرشتہ ہے اور فرشتہ اگر جھوٹا قول بناتا تو خدا فرماتا ہے میں اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی رگ گردن کاٹ دیتا۔تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ افتراء علی اللہ کی سزا ہی اللہ تعالی کے نزدیک اخذ بالسیمین کے بعد قطع و تین ہے۔تبھی تو اس نے فرمایا کہ اگر فرشتہ