تحقیقِ عارفانہ — Page 164
۱۶۴ کا نامناسب ہو نا انہیں اچھی طرح محسوس ہو جائے۔خودا انجیل میں لکھا ہے۔عیب نہ لگاؤ تا تم پر عیب نہ لگایا جائے۔“ (متی ۷/۱) یسوع مسیح کے اس قول کے مطابق جب عیسائیوں نے دوسروں کو الزام دینے کا طریق اختیار کیا تو پھر ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق ان کے لئے وہی یانہ استعمال کیا جاتا جو وہ استعمال کر رہے تھے۔پس از روئے انجیل بھی مدافعت کے اس طریق کا استعمال ضروری تھا۔چنانچہ اس کے بعد عیسائیوں نے اسلام اور بانی اسلام | علیہ السلام پر کھلے کھلے ناپاک حملوں کا طریق چھوڑ دیا اور ان کے اعتراضات کی روش بدل گئی اور انہوں نے اس میں خاصی اصلاح کرلی۔ماسوا اس کے اگر مدافعت کا یہ طریق اختیار نہ کیا جاتا اور عیسائیوں کی روش میں تبدیلی نہ ہوتی تو ملک میں سخت فتنے کا دروازہ کھل جاتا اور مسلمانوں کو سخت مصیبت سے دوچار ہونا پڑتا۔کیونکہ مسلمان اپنے نبی کریم کے خلاف گندے اعتراضات نہیں سن سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کے سامنے یہودیوں کے اعتراضات پیش کر کے مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کر دیا اور اس طرح مسلمان ایک سخت تباہی اور کشت و خون سے بیچ گئے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو مصیبتوں میں آسان مصیبت کو اختیار کیا ہے جس سے عیسائی بھی راور است پر آگئے اور مسلمان بھی فتنہ سے بچ گئے اور مدافعت کا یہ طریق آپ کا اضطرارا اختیار کرنا پڑا، اور نہ آپ دل سے یہ طریق اختیار کرنا نہیں چاہتے تھے۔اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ باتیں جو عام حالات میں جائز نہ ہوں اضطرار میں جائز ہو سکتی ہیں جزاء مسبقة سبقةٌ مِثْلُهَا (الشوری : ۴۱) تو ایک عام قانون ہے کہ بدی کی جز ابدی سے دینا جائز ہے۔پس اپنی قیت کو صحیح رکھتے ہوئے اس قسم کی تنقید جو الزامی رنگ میں دشمن کا