تحقیقِ عارفانہ — Page 147
۱۴۷ لفظی سے آلود و یا سرے سے موضوع ہیں یہ ہے کہ اس قول میں برق صاحب سراسر افتراء سے کام لے رہے ہیں۔کیونکہ حضرت اقدس نے کسی جگہ بھی تمام حدیثوں کے متعلق یہ الفاظ تحریر نہیں فرمائے۔بلکہ صرف بعض احادیث کے متعلق ایسا خیال ظاہر کیا ہے چنانچہ ایک ایک عبارت جو خود برق صاحب نے بھی حضرت اقدسن کے کلام سے اپنی کتاب حرف محرمانہ صفحہ ۷۶ پر نقل کی ہے ان کی تردید کے لئے کافی ہے۔اس عبارت میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں۔" یہ کمال درجہ کی بد نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح بن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بالا تفاق قبول کر لیا ہے۔“ (ازالہ اوہام جلد ۲ صفحہ ۷ ۵۵ طبع اوّل ) پس مسیح موعود کی آمد کے متعلق پیشگوئی کو جو حدیثوں میں بیان ہوئی آپ سچا سمجھتے ہیں۔اور یک دم تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لینا کمال درجہ کی بد نصیبی اور بھاری غلطی قرار دیتے ہیں۔آپ نے صرف ان احادیث کو ساقط الاعتبار قرار دیا ہے۔جو علماء آپ کے خلاف پیش کرتے تھے۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔خدا نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ تمام حدیثیں جو یہ پیش کرتے ہیں تحریف معنوی یا لفظی میں آلودہ ہیں یا سرے سے موضوع ہیں۔“ (اربعین نمبر ۳ صفحه ۱۸ طبع اوّل) یہی الفاظ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۲ طبع اول پر لکھتے ہیں۔پھر حضرت اقدس اعجاز احمدی صفحہ ۲۸ طبع اول پر تحریر فرماتے ہیں۔" ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو رڈی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی و معارض نہ ہوں تا ہلاک نہ ہو جاؤ۔کسی