تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 143 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 143

۱۴۳ ان تحریرات میں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی ہونے یا ظلی نبی ہونے کی تردید نہیں کی گئی۔بلکہ ایسی نبوت کا دعویٰ تسلیم کیا گیا ہے۔پانچوین وجہ برق صاحب نے پانچو میں وجہ یہ لکھی ہے کہ :- اگر 190 ء سے پہلے کی تحریرات منسوخ کر دی جائیں تو مرزا صاحب کی دو تہائی تحریرات سے ہاتھ دھونا پڑیگا۔اگر ایک رسول کی دو تہائی تحریرات کو نا قابل اعتماد قرار دیا جائے تو باقی ماندہ ایک تہائی سے بھی اعتماد اٹھ جائے گا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۶۹) اس کے جواب میں واضح ہو کہ سابقہ تحریرات میں نسخ صرف ایک تاویل کا ہوا ہے نہ کہ الہامات کا۔اور تاویل اجتہاد پر مبنی ہوتی ہے۔اگر بعد کے الہامات سے ثابت ہو جائے کہ وہ تاویل بدیں وجہ تبدیلی کے قابل ہے۔تو بعد کے الہامات سے اعتماد نہیں اٹھ سکتا۔کیونکہ پہلے کے تمام الہامات بھی سے تطابق رکھتے ہیں۔اختلاف صرف اجتہادی تاویل کی وجہ سے پایا گیا ہے۔جسے الہام الہی نے منسوخ کر دیا۔دیکھئے رسول کریم ﷺ اپنی نبوت کے زمانہ میں ایک لمبے عرصہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے رہے۔اور مدینہ منورہ میں ہجرت کے سولہ ماہ بعد جو وحی نازل ہوئی اس نے قبلہ بیت المقدس کی جائے کعبہ قرار دے دیا اب کیا بعد والی وحی کے متعلق جو کعبہ کو قبلہ قرار دیتی ہے کوئی مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ تیرہ سال بعد کی وحی ہونے کی وجہ سے نا قابل اعتماد ہے ہر گز نہیں۔اسی طرح پہلے آنحضرت ﷺ اپنی شان کے متعلق انکسار طبع کی بنا پر یہ