تحقیقِ عارفانہ — Page 142
۱۴۲ چوتھی وجہ برق صاحب نے چوتھی وجہ یہ لکھی ہے کہ :- " ہم صفحات گذشتہ میں دافع البلاء اور کشتی نوح کے چند اقتباسات درج کر چکے ہیں جن میں مرزا صاحب خاتمہ نبوت کے صریحاً قائل ہیں یہ دونوں کتا ہیں ۱۹۰۲ء میں لکھی گئی تھیں۔اگر صرف نشاء کی تحریرات منسوخ ہیں تو پھر ان اقتباسات کا تطابق آخری تحریرات سے کیسے ہو گا۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۶۸) الجواب 1901ء کی تحریرات کا منسوخ ہونا کوئی تسلیم نہیں کرتا۔غالبا یہ برق صاحب سے سموا لکھا گیا ہے کیونکہ آگے وجہ پنجم میں خود انہیں مسلم ہے کہ احمدی انشاء سے پہلے کی ان تحریرات میں نسخ کے قائل ہیں جو نبوت کی تشریح کے متعلق ہیں۔برق صاحب نے دافع البلاء سے حرف محرمانہ صفحہ ۶۰ پر جو حوالہ نقل فرمایا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔تھا۔66 " قادیان اسی لئے محفوظ ر کھی گئی کہ وہ خدا کے رسول اور فرستادہ قادیان میں ( دافع البلاء صفحه ۵ طبع اول) اور کشتی نوح سے حرف محرمانہ کے صفحہ ۵۲ پر جو حوالہ جناب برقی صاحب نے نقل فرمایا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :- کیا ضروری نہیں کہ اس امت میں بھی کوئی نبیوں اور رسولوں کے رنگ میں نظر آوے جو بنی اسرائیل کے تمام نبیوں کا وارث اور ان کا ظل ہو۔“ یہ دونوں عبارتیں آپ کے دعویٰ نبوت ورسالت کے ثبوت میں ہیں نہ کہ نفی میں۔لہذا ۱۹۰۲ء سے بعد کی تحریرات سے ان کا کوئی اختیف موجود نہیں کیونکہ