تحقیقِ عارفانہ — Page 3
ضروری گذارش مجھے اکثر دوستوں کی طرف سے یہ تحریک ہوئی تھی کہ ڈاکٹر غلام جیلانی صاحب برق کملپوری کی کتاب " حرف محرمانہ " کا جواب ہماری طرف سے دیا جانا چاہئے۔کیونکہ کئی لوگ اس کے سوالات ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔گو ایسی باتوں کے جوابات سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر میں متعدد بار دیئے گئے ہیں۔مگر چونکہ برق صاحب نے ایسے اعتراضات کو اپنی کتاب میں اپنے الفاظ میں ڈھال کر جمع کر دیا ہے اس لئے یکجائی طور پر ان کا جواب ضروری ہے۔میں نے دوستوں کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اس کتاب کا جواب بنام " تحقیق عارفانہ لکھا ہے جو احباب کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے :- جناب برق صاحب نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے حوالہ جات کو پیش کرنے میں پوری دیانت داری سے کام لیا ہے اور منشاء متکلم کو بگاڑنے کی کوشش نہیں کی۔احباب کرام ان کی کتاب کا جواب پڑھنے پر یہ محسوس کر لیں گے کہ وہ اپنے اس دعویٰ میں کس قدر عمد و بر آہوئے ہیں۔مجھے ہمیشہ یہ حسرت رہی ہے کہ کسی مخالف مولوی کی کوئی ایسی کتاب دیکھنے میں آئے جس میں حوالہ جات قطع و برید کئے بغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحیح منشاء کو پیش کر کے آپ پر تنقید کی گئی ہو۔مگر افسوس ہے کہ کوئی کتاب آج تک میری نظر سے نہیں گذری جس میں دیانت کے اس پہلو کو مد نظر رکھا گیا ہو۔برق صاحب کی کتاب کی تمہید پڑھ کر اور ان کا یہ دعوی دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ احمدیت پر تنقید کرنے والا ایک شریف مصنف تو ایسا ملا جو