تحقیقِ عارفانہ — Page 124
۱۲۴ تھے۔اگر جناب مرزا صاحب کے الہامات انجیل کے ہم پایہ تھے تو پھر بھی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک چھوٹی سی کتاب یعنی انجیل کی بنا پر حضرت عیسی کو تو صاحب شریعت رسول تسلیم کیا جائے اور جناب مرزا صاحب کی وحی کو جو میں اجزاء پر مشتمل ہے نظر انداز کر دیا جائے بات یہ ہے کہ نبی وحی کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا۔اور یہی وحی اس کی شریعت ہوتی ہے۔انبیاء کو شرعی اور غیر شرعی میں تقسیم کرنا درست نہیں۔اس مسئلہ پر مرزا صاحب کا ارشاد ذیل کتنا فیصلہ کن ہے۔" (حرف محرمانہ صفحہ ۲۶،۶۵) برق صاحب کی اوپر کی عبارت میں تین باتیں حل طلب ہیں۔اول یہ کہ انبیاء کو شرعی اور غیر شرعی میں تقسیم کرنا درست نہیں۔بنیادی امر ہونے کی وجہ سے ہم نے اسے پہلے نمبر رکھا ہے۔دوئم یہ کہ آیا انجیل کوئی شریعت کی کتاب تھی یا نہیں۔سوئم یہ کہ کیا حضرت مرزا صاحب تشریعی نبوت کے مدعی تھے۔اس بارہ میں اقتباس جناب برق صاحب نے حرف محرمانہ صفحہ ۶۶ و صفحه ۶۷ پر اربعین نمبر ۴ صفحہ ۷ ۸۰ لے نقل کیا ہے اس کی تشریح کیا ہے اور وہ کیا فیصلہ دیتا ہے ! اب ان امور کا جواب علی الترتیب دیا جاتا ہے۔امر اول۔نبوت کی تقسیم از روئے قرآن مجید قرآن مجید سے صاف ظاہر ہے کہ نبوت کی دو قسمیں ہیں۔تشریعی اور غیر تشریعی۔اور یہ تقسیم قرآن مجید میں صاف مذکور ہے ہم حیران ہیں کہ برق صاحب کو یہ تقسیم کیوں نظر نہیں آئی۔دیکھئے اللہ تعالی قران مجید میں فرماتا ہے۔ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَاماً عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِكُلِّ شَيْ (سورۃ الانعام : ۱۵۵) یعنی ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔جو نیکی کرنے والے پر نعمت پوری کرنے