تحقیقِ عارفانہ — Page 111
اصلی نبوت مظہر اصل کا ظل ہوتا ہے۔اور ظلی طور پر اصل سے اتحاد ر کھتا ہے نہ کہ اصلی طور پر اس لئے ظلی نبی لازماً غیر تشریعی نبی اور امتی ہو گا۔برق صاحب نے ان حوالہ جات کے ادھورا پیش کرنے میں جو کمزوری دکھائی ہے۔اب میں اسے بے نقاب کرنا چاہتا ہوں۔دیکھئے ۲۹ جون کے الفضل میں اس مضمون میں آگے چل کر لکھا گیا ہے۔" پس مسیح موعود احمد نبی اللہ ہیں جنہوں نے بعث ثانی میں ایک امتی کے آئینہ وجود میں ظہور فرمایا ہے۔اور جس طرح آئینہ دوسرے کا وجود دکھانے کے لئے ہستی اور فنا کے مقام کو اختیار کرنے والا ہوتا ہے اور دُوئی اور دورنگی سے بگلی پاک۔اسی طرح امتی ہونے کی حیثیت بطور آئینہ کے ہے۔“ (الفضل ۲۹ جون ۱۹۱۵ء) اس عبارت سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ تحریر کنندہ حضرت مسیح موعود کے امتی ہو نیکی حیثیت کو بہر حال تسلیم کرتا ہے اور مسیح موعود کو غیر امتی نہیں سمجھتا۔بلکہ نبوت کے لئے امتی کی حیثیت کو بطور آئینہ ظلیت قرار دیتا ہے۔پس مندرجہ بالا عبارت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے پہلی عبارت میں امتی ہونے کی نفی سے صرف یہ مراد ہوئی کہ مسیح موعود خالی امتی ہونے کے حیثیت نہیں رکھتا اور محض اتیوں کا فرد نہیں بلکہ مظہریت کے لحاظ سے نبی ہے اور آئینہ ہونے کے لحاظ سے امتی۔گویا ایک پہلو سے نبی ہے اور دوسرے پہلو سے امتی اور اس کی نبوت آنحضرت ﷺ کی طبل ہے نہ کہ اصلی نبوت پس وہ لاز ما غیر تشریعی امتی نہیں ہو گا۔کسی شریعت جدیدہ کا حامل نہیں ہو گا۔شریعت جدیدہ کے حامل نبی کیلئے مستقل نہی ہونا ضروری ہے وہ امتی نبی ہوتا ہی نہیں کیونکہ شریعت جدیدہ کا حامل وہ نبی ہوتا ہے جو پہلی شریعت میں ترمیم یا تنسیخ کرے یا اس کے حکم کو باطل کرے۔مگر امتی نبی کو یہ حق حاصل نہیں ہو تا۔چنانچہ حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں۔