تحقیقِ عارفانہ — Page 109
۱۰۹ آنحضرت ﷺ سے کوئی الگ نبوت نہیں بلکہ مور دیروز ایک آئینہ کی حثیت رکھتا ہے جس میں محمد کی انوار اور محمدی نبوت کی جھلی ہوتی ہے۔دیانت کا خون افسوس محترم برق صاحب نے اس حقیقت کو جانتے بوجھتے کہ حضرت اقدس بروزی نبوت کے مدعی ہیں۔اور اس کا بیان آگے کشتی نوح صفحہ ۱۵ طبع اول پر موجود ہے۔صفحہ ۱۳ کی مندرجہ بالا عبارت کا یہ مفہوم گھڑ کر پیش کیا ہے۔آنحضرت عمه خاتم الانبیاء ہیں آپ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا۔اور کہ ہر مدعی نبوت (بعد از حضور ) کاذب و کافر ہے۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۵۲) اب ناظرین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جناب برق صاحب نے کشتی نوح صفحہ ۱۳ طبع اول سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ منشاء متکلم کے صریح خلاف ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود نے آگے چل کر کشتی نوح صفحہ ۱۵ طبع اول میں بروزی نبوت کا دروازہ آنحضرت میلے کی ظلیت میں کھلا قرار دیا ہے۔مگر برق صاحب سے کشتی نوح کی عبارت صفحہ ۱۳ طبع اول سے ہی بند دکھانا چاہتے ہیں اور اس عبارت کا یہ مفہوم از خود گھڑ کر یہ پیش کر رہے ہیں کہ حضرت اقدس کے نزدیک ہر مدعی نبوت کاذب و کافر ہے۔کیا یہ دیانت داری کا خون کرنا نہیں ؟ جناب برق صاحب نے بعض اور عبارتوں میں بھی اسی طرح دیانت داری کا خون کیا ہے۔برق صاحب کی تحریف چنانچہ آپ نے الفضل ۲۹ جون ۱۹۱۵ء سے بھی ایک عبارت نقل فرمائی ہے جو نہ تو حضرت مسیح موعود کی تحریر ہے اور نہ آپ کے کسی خلیفہ کی۔کہ جماعت کے لئے حجت ہو سکے۔بلکہ یہ سلسلہ کے ایک عالم کی تحریر ہے۔مگر وہ بھی انہوں نے اس