تحقیقِ عارفانہ — Page 108
۱۰۸ ملا ہے۔" ،، (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۱۵۰ طبع اول) پھر حضرت مسیح موعود کشتی نوح میں فرماتے ہیں۔وو خدا ایک اور محمد عمل ہے اس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے اور کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور پر محمدیت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی سیخ سے جدا ہے پس جو کامل طور پر مخدوم محمد ے با قل) میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت میں خلل انداز نہیں جیسا کہ جب تم آئینہ میں اپنی شکل دیکھو گو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو۔اگر چہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل کو ر اصل کا فرق ہے۔سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا۔“ (کشتی نوح صفحه ۱۵ طبع اول) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد بروزی نبوت کا دروازہ کھلا ہے اور بروزی نبی کے لئے آنحضرت کا ظل ہونا ضروری ہے۔گویا ایک قسم کی نبوت جو خاتم الانبیاء کا فیضان ہے بتلى الله کشتی نوح میں آپ نے ختم نبوت کے منافی قرار نہیں دی اور ایسا نبی آنحضرت ملے کا ظل ہونے کی وجہ سے آپ کے ہی وجود میں داخل ہے نہ کوئی الگ نہیں۔اسی مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے کشتی نوح میں اس سے دو صفحہ پہلے حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے۔نوع انسانی کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد ہے۔(کشتی نوح صفحه ۱۳ طبع اول) اس کی تشریح میں آپ نے مذکورہ عبارت تحریر فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ جس طرح آئینہ میں اپنی شکل دیکھنے سے دو وجود نہیں بن جاتے اسی طرح پیروزی نبوت