تحقیقِ عارفانہ — Page 101
مرتبہ بھی آپ سے نہ کہا کہ حضرت آپ غلطی کر رہے ہیں اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے نبوت کا دروازہ کھلا ہے اسے بند کر کے اپنے لئے دشواریاں پیدا نہ کیجئے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۵) یہ اعتراض محض سطحی ہے ورنہ جناب برق صاحب بتائیں کہ جب جبریل روزانہ رسول کریم ﷺ کے پاس آتا تھا تو وہ کیوں نہیں کہہ دیتا تھا کہ حضور آپ تو خاتم النبیین ہیں۔اور تمام نبیوں کے سردار اور ان سے افضل ہیں۔آپ یہ کیوں کہا کرتے ہیں کہ مجھے دوسرے نبیوں پر فضیلت مت دو۔آپ یہ نہ فرمایا کہ میں کہ حضرت ابراہیم سب لوگوں سے افضل ہیں بلکہ در حقیقت سب نبیوں سے افضل تو خود آپ میں پس اپنے لئے دشواریاں پیدا نہ کیجئے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں آپ پر یہ اعتراض کیا گیا لو لانزِّلَ عَلَيْهِ صلى القُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً (الفرقان : ۳۳) اس نبی پر قرآن اکٹھا کیوں نہیں اتارا گیا) خدا تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا كَذلِكَ لِنُسبت به فُؤَادَكَ (الفرقان : ۳۳) بات اسی طرح ہے اور ایسا ہم نے اس لئے کیا ہے کہ تیرا دل اس طرح قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنے سے مضبوط کیا جائے۔پس جس طرح قرآن مجید کے تدریجی نزول میں یہ حکمت مد نظر تھی اسی طرح مامورین پر ان کی شان کے متعلق تدریجی انکشاف میں خدا تعالیٰ کے مد نظر کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔مثلاً ایک مصلحت تو یہ ہو سکتی ہے کہ لوگ مامور من اللہ کی اکمل شان کو شروع میں سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔اسی بنا پر آنحضرت عے پر دعویٰ نبوت کے پہلے اٹھارہ سالوں میں یہ انکشاف نہ ہوا کہ آپ خاتم النبین ہیں۔بلکہ آپ نے ایمان لانے والے لوگوں کو آپ کو نبیوں پر فضیلت دینے سے منع فرمایا۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ اب امت آپ کی اس شان کی متحمل ہو سکتی ہے کہ آپ تمام