تحقیقِ عارفانہ — Page 95
۹۵ دو یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امور غیبیہ کھلتے ہیں۔“ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۶ طبع اوّل) ان تمام حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی نبوت کے متعلق صراحت ہو جانے پر آپ نے نبی کے لغوی معنوں، اسلامی اصطلاح، قرآنی اصطلاح اور انبیاء کی اصطلاح کو ہم معنی قرار دیا ہے۔اور اس میں یہ شرط کسی جگہ بیان نہیں فرمائی۔کہ نبی کے لئے غیر امتی ہونا ضروری ہے۔بلکہ ان تعریفوں کے مطابق آپ نے اپنے تئیں نبی قرار دیا لیکن معروف قیاسی تعریف کی خامی آپ پر ظاہر ہو گئی۔تا ہم چونکہ آپ کے مخالف علماء کے نزدیک نبی کی اصطلاحی تعریف وہی تھی جس میں نبی کے لئے کسی دوسرے نبی کا امتی نہ ہونا شرط ہے۔اس لئے اس سابقہ تعریف کے پیش نظر آپ نے کبھی بھی نبی ہو نیکا دعویٰ نہیں کیا بلکہ مخالفین کے آپ کی طرف دعوی نبوت منسوب کرنے کو پہلے کی طرح ان کا افتراء قرار دیتے رہے اور ساتھ ہی یہ وضاحت فرما دیتے رہے کہ آپ ان معنوں میں نبی ہیں جن معنوں میں قرآن نبی کی آمد کو جائز رکھتا ہے۔اور نبوت کی جو معروف حقیقی تعریف سمجھی جاتی ہے اس کے بالمقابل آپ کا نام مجازی طور پر رکھا گیا ہے۔ہاں خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں اور قرآن کریم کی اصطلاح میں اور نبیوں کی اصطلاح میں اور دوسری اسلامی اصطلاح میں جو اوپر بیان ہوئی ہے یا لغوی معنوں کے لحاظ سے آپ اپنے آپ کو نبی ہی قرار دیتے رہے۔اب آپ اپنے سابقہ خیال میں یہ تبدیلی ضرور فرما چکے تھے کہ آپ کا مقام نبوت محدثیت سے بالا ہے۔چنانچہ آپ اشتہار ” ایک غلطی کا ازالہ میں فرماتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبریں پانے والا نبی نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کہ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہیئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار امر غیب نہیں ہیں مگر نبوت